بیجنگ میں گذشتہ برس 33 ارب پتی تھے جو اس بار 100 ہوگئے

دنیا کے امیر ترین افراد سے متعلق فوربز کی سالانہ فہرست کے مطابق چین کا شہر بیجنگ امریکی شہر نیو یارک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ ارب پتی افراد کا شہر بن گیا ہے۔

اس فہرست کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں رہنے والے 33 افراد گذشتہ برس ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل ہوئے جس کے بعد یہاں رہنے والے ارب پتی افراد کی مجموعی تعداد 100 ہو گئی ہے۔

فوربز میگزین کے مطابق بیجنگ نے انتہائی کم فرق کے ساتھ نیویارک کو پیچھے چھوڑا۔ نیویارک میں رہنے والے ارب پتی افراد کی تعداد 99 ہے۔ نیویارک گذشتہ سات برس سے اس فہرست میں پہلے نمبر پر تھا۔

ارب پتی افراد کی لسٹ میں سرِفہرست آنے کی وجہ چین کی جانب سے کووڈ 19 کی صورتحال پر فوری قابو پانے، ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ترقی اور بازار حصص میں بہتری کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ بیجنگ شہر میں اب ارب پتی افراد کی تعداد زیادہ ہے تاہم نیویارک کے ارب پتیوں کی مجموعی دولت اب بھی چین کے ارب پتیوں سے زیادہ ہی ہے۔

بیجنگ کے امیر ترین شخص یانگ یمینگ ہیں جو ویڈیو شیئرنگ سائٹ ’ٹک ٹاک‘ کے بانی اور ’بائٹ ڈانس‘ کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ ان کی دولت گذشتہ برس دگنی ہو کر تین ارب 65 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

جبکہ نیویارک کے امیر ترین شخص سابق میئر مائیکل بلومبرگ ہیں جن کے پاس موجود دولت کی مجموعی مالیت 59 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

فوربز کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 493 افراد ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں یعنی اندازًا ہر 17 گھنٹے بعد ایک شخص ارب پتی بنا۔

ارب پتی افراد کے حوالے سے انڈیا تیسرا نمبر پر ہے جہاں 140 ارب پتی ہیں۔ ایشیا پیسیفک میں مجموعی طور پر 1149 ارب پتی افراد ہیں جن کی مجموعی دولت 4.7 کھرب ڈالر ہے جبکہ امریکی ارب پتیوں کی مجموعی دولت 4.4 کھرب ڈالر ہے۔

ایمازون کے چیف ایگزیکٹیو جیف بیزوس چوتھے برس بھی دنیا کے امیر ترین شخص ہیں جن کی مجموعی دولت میں گذشتہ برس 64 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا اور اب ان کے پاس موجود دولت کی مالیت 177 ارب ڈالر ہے۔