فنگر پرنٹ کی کلوننگ کے ذریعے بینک فراڈ کا انکشاف!

208

دھنباد: 15/ڈسمبر(ایجنسیز)سائبر ٹھگ اب کھاتہ برداروں کے فنگر پرنٹ کی کلوننگ کر کے بینک کھاتوں میں رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ جھارکھنڈ کے دھنباد ضلع میں اس طرح کے ڈیڑھ سو کے قریب معاملے سامنے آئے ہیں۔ ضلع کے مختلف بینکوں کے کل 147 کھاتوں سے غیر قانونی طور پر رقم نکالی گئی ہے۔ ان معاملوں کے حوالہ سے بینکوں کے علاوہ سائبر پولیس میں بھی شکایت کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جن لوگوں کے کھاتوں سے رقم نکالی گئی ہے،

ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے بینکنگ خدمات کے لیے بینکوں کی شاخوں کے بجائے ان کے ’کسٹمر کیئر سینٹرز‘ یا ’فرنچائزی سینٹرز‘ کی خدمات لی تھیں اور وہاں کی مشینوں پر اپنے فنگر پرنٹس دیئے تھے۔ ایسے میں خدشہ ہے کہ غیر قانونی رقم نکلوانے کے ان معاملات میں سائبر مجرموں کے ساتھ کسٹمر سروس سینٹرز بھی ملوث ہیں۔سائبر پولیس اور بینکوں سے شکایت کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں نہ تو کسی کی طرف سے کال موصول ہوئی، نہ ہی انہوں نے ’اے ٹی ایم‘ کا پن اور ’او ٹی پی‘ کسی کے ساتھ شیئر کیا اور نہ ہی کبھی کسی لنک پر کلک کیا، پھر بھی ان کے اکاؤنٹ سے ہزاروں روپے نکال لئے گئے۔

بتایا جا رہا ہے کہ دو سے تین بار میں زیادہ تر لوگوں کے کھاتوں سے 7 سے 24 ہزار روپے تک کی غلط نکاسی کی گئی۔ جن کے اکاؤنٹس ہیک کیے گئے ہیں ان میں تاجر، ڈاکٹر، خواتین بھی شامل ہیں۔سائبر سیل کے ڈی ایس پی سمیت سوربھ لاکڑا کے مطابق یہ سائبر کرائم کے بجائے شناخت کی چوری کا معاملہ ہے۔ فنگر پرنٹس کا استعمال عام طور پر لوگ نئی سم حاصل کرنے، آدھار کو اپ ڈیٹ کرنے، بائیو میٹرک حاضری اور کسٹمر کیئر سینٹرز کے ذریعے رقم نکالنے کے لیے کرتے ہیں۔

مجرم پہلے ہی مشین میں ایک خاص قسم کا کیمیکل لگاتے ہیں جس میں لوگ اپنی انگلیوں کے نشانات دیتے ہیں۔ لوگوں کے جانے کے بعد، وہ کیمیکل پر انگلیوں کے نشانات کو کلون کرتے ہیں۔ سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فراڈ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی مشین پر فنگر پرنٹ دینے کے بعد اس جگہ کو روئی یا کپڑے سے صاف کیا جائے تاکہ آپ کے جانے کے بعد اسے کلون نہ کیا جا سکے۔