راملہ :مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تیار کردہ اسرائیلی شراب متحدہ عرب امارات میں فروخت کی جائے گی۔ یورپی یونین کے برعکس یو اے ای نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی کہ ایسی اسرائیلی مصنوعات پر خصوصی لیبل چسپاں کیے جائیں۔فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اسرائیلی شراب جلد ہی متحدہ عرب امارات میں دستیاب ہو گی اور اس شراب پر صرف یہ لیبل چسپاں ہو گا: ‘اسرائیل میں تیار کردہ‘۔ فلسطینیوں نے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اشیاء کی تجارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کئی دیگر ممالک بھی اس حوالے سے یہی نظریہ رکھتے ہیں تاہم اسرائیل اسے متنازعہ قرار دیتا ہے۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد تجارتی معاہدے بھی کیے گئے تھے۔ ایک عرب کمپنی نے شراب اور زیتون کا تیل درآمد کرنے کے لیے اسرائیل کی کمپنی ‘تورا وائنری‘ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور یہ کمپنی مقبوضہ مغربی کنارے کے ریحالیم نامی علاقے میں واقع ہے۔اس کمپنی کے مالک ویریڈ بن سادون کا نیوز ایجنسی رائٹرزسے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ برآمدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اور یو اے ای کے مابین معاہدہ یہودی آبادکاری والے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، یعنی مغربی کنارے تک، جسے اسرائیل نے 1967ء میں اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔یہ اسرائیلی کمپنی زیتون کا تیل بھی متحدہ عرب امارات کو برآمد کر چکی ہے اور ان بوتلوں پر بھی صرف یہی لکھا ہوا تھا: ”فرام دا لینڈ آف اسرائیل۔‘‘متحدہ عرب امارات کے حکام سے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کردہ مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے پوچھا گیا، تو انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم یہ ضرور کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے علاقے میں امن پھیلے گا۔متحدہ عرب امارات نے ایسی کوئی شرط بھی نہیں رکھی کہ مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اشیاء پر یہ لیبل لگایا جائے کہ وہ یہودی آبادکاری والے علاقوں میں تیار کی گئی ہیں۔یورپی یونین میں ایسے لیبل لگانا ضروری ہیں تاکہ عوام کو آگاہ کیا جا سکے کہ وہ کس علاقے کی چیز خرید رہے ہیں۔گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر صرف ‘میڈ ان اسرائیل یا پراڈکٹس آف اسرائیل‘ لکھا جانا کافی ہے۔نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی پالیسی کے ناقد ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی لیبلنگ گائیڈ لائنز کو تبدیل کریں گے یا نہیں۔ریحالیم سے تقریباً دو کلومیٹر دور یوسف نامی گاؤں واقع ہے۔ وہاں زیتون اور شہد کا کاروبار کرنے والے 57سالہ فلسطینی کسان نظام عبدالرزاق کا کہنا تھا، ”یہ دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی(متحدہ عرب امارات میں) اپنی رقم لگا کر ہمارے دشمن کی حمایت کر رہے ہیں۔‘‘فلسطینی اتھارٹی کی وزارت اقتصادیات نے مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ مصنوعات کی خریداری کو ”بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔ اتھارٹی کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایسا کرنا مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں