حیدرآباد۔تیسرے دن بھی اسرائیل دستوں کے تشدد کا نشانہ فلسطینی مسجد الاقصاء میں بنے ہیں‘ ان واقعات میں کئی فلسطینی بشمو بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔

مسجد میں تشدد کے بعد اسرائیل کی جانب سے غازہ پٹی میں بھی بم باری کی گئی اور فضائی حملے انجام دئے گئے جس میں 20لوگ جاں بحق ہوگئے ہیں۔

اس کشیدگی کے بیچ یہودی ”یوم یروشلم“ منانے کے لئے پرانے شہر کی واسٹر ول کے قریب پہنچے (اس روز 1967کی جنگ میں اسرائیل کی جیت کے طور پر منایاجاتا ہے) جس 10مئی کے روز منعقد ہوتا ہے۔

مسجد الاقصاء پر
مختلف رپورٹس کے بموجب‘ تین سو مسلم فلسطینی بشمول بچے زخمی ہیں‘ شدید طور پر اس وقت زخمی ہوئے جب مسلسل تیسرے دن مسجد اقصاء میں اسرائیلی دستے پیر کے روز داخل ہوئے تھے۔

یہاں مسئلہ فلسطین میں پڑوس کا شیخ جرہ علاقہ ہے جہاں پر 40فلسطینیوں بشمول 10سمیت ان کے گھر سے یہودی بیدخل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

تاہم بعض رپورٹس کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے کویڈ19قواعد کی خلاف ورزی کے بعد اسرائیل دستوں نے تشدد کو انجام دیاہے۔

فلسطینی انسانی حقوق تنظیم ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلوں کے سالانہ مارچ کے دوران یوم ایسٹ یروشلم کے دوران دھاوؤں میں کم سے کم305لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی آرمی ریڈیوکے بموجب 21اسرائیل جوان زخمی ہوئے ہیں۔ شیخ اکریما صابری‘ مسجد امام الاقصاء نے الزام لگایا کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے مقصد مساجد کے صحن پر حملہ کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ”غیر علاقائیوں کو مطمئن کرسکیں‘ تاکہ وہ وزیراعظم برقرار رہ سکیں“

غازی پٹی میں 20بشمول 9معصوم جاں بحق
غازی میں شہری آبادی پر اسرائیل کے سلسلہ وار فضائی حملوں میں فلسطینی وزرات صحت کی خبر کے مطابق کم سے کم25فلسطینی بشمول بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

میڈل ایسٹ ائی کے بموجب عینی شاہدین نے کہاکہ مذکورہ فضائی حملے پڑوس میں آبادی پر کئے گئے جس میں کئی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ان ہولناک فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں میں نو بچے بھی شامل ہیں

اسرائیل سپریم کورٹ نے اس سے قبل شیخ جارہ علاقے میں یہودی آبادکاری سے ان کے گھروں کی ملیت کے متعلق یہودی بازآبادکاروں کے ساتھ معاہدے کرنے کے اگلے ہفتہ تک رسائی کی مہلت دی تھی(الجزیرہ)۔

مذکورہ فلسطینی خاندانوں کا الزام ہے کہ پڑوس کی یہودی آبادی سے منتقل کرنے کا ان پر زوردیاجارہا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں