فلسطینی شہدا کا خون قوم کی وحدت کی علامت :اسماعیل ہانیہ

دوحہ: اسلامی تحریک مزاحمت(حماس)کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین میں قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے شہدا یوسف صلاح، برا لحلوح اور لیث ابوسرور کے اہل خانہ سے ٹیلیفون پر بات کی۔فون پر بات کے دوران حماس کے سربراہ نے قابض فوج کے اس گھنائونے صہیونی جرم کی مذمت کی اور کہا کہ تینوں فلسطینیوں کو ماورائے عدالت شہید کیا گیاہے۔تین فلسطینیوں کی شہادت کا یہ واقعہ فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے منظم اور طے شدہ جرائم کا تسلسل ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام شہدا ہمارے بچے ہیں اور یہ پاک و پاکیزہ خون فلسطینیوں کے اتحاد اور اس کے حال اور مستقبل میں ہمارے عوام کے اتحاد کی تصدیق کرتا ہے۔ شہید ہونے والا فلسطینی چاہے اندرون فلسطین سے ہو،مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، القدس،48 کے مقبوضہ علاقے سے ہو یا یاپناہ گزی ہو وہ فلسطینی قوم ہی کی نمائندگی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ شہداء تمام عمر کی مسلسل مزاحمت کے دوران بیت المقدس اور الاقصیٰ کی آزادی اور دفاع کے راستے پر چل رہے ہیں۔ اس جرم سے تینوں رہ نما فواد حجازی، عطا الزیر اور محمد جمجوم کی شہادت کی یاد تازہ ہو گئی جو7 جون 1930 ء کو شہید ہوئے تھے۔