کیا اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسی کے سبب امریکی حمایت کھورہا ہے ؟ گیلپ سروے کے انکشافات اسرائیلی لابی کیلئے باعث تشویش

قطر : گذشتہ ماہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی 11روزہ خوفناک جنگی کارروائیوں کے بعد بعض چیزیں اس طرح ابھر کر سامنے آئی ہیں جس نے پوری دنیا کے نظریات میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔امریکی کانگریس کی خاتون رکن الگزینڈریاکا خیال ہے کہ ایسا پہلی بار ہے جب اسرائیل امریکی حمایت بتدریج ہوتا جارہا ہے ۔ جیسا کہ امریکی قانون ساز کونسل کے ارکان حکومت کے اسرائیل حامی پالیسی پر سوالات کھڑا کرنے لگے ہیں ۔ کئی ایک دہائیوں سے مشرق وسطی کے بارے میں امریکہ میں عوامی رائے عامہ کاجائزہ لینے والے ماہرین کہتے ہیں کہ ’یہ تبدیلی ڈرامائی ہے۔ یہ ٹیکٹونک ہے‘ (یعنی اتنی بڑی تبدیلی جیسے کے ایک براعظم ہل گیا ہو)۔ خاص طور پر نوجوان نسل فلسطینیوں کے ساتھ کافی ہمدردی رکھتی ہے، اور نوجوانوں کی اس رائے میں تبدیلی کا فرق ڈیموکریٹک پارٹی کے میں واضح نظر آتا ہے۔اگرچہ صدر جو بائیڈن نے اس تنازع پر ایک روایتی نقطہ نظر رکھا ہے، اور بار بار اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو حماس کے راکٹ حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا حق ہے، لیکن وہ خود اُس پارٹی گروپ سے ہم آہنگ نظر نہیں آرہے ہیں، جسے غزہ اور غرب اردن میں رہنے والے فلسطینیوں کی حالت کے بارے میں شدید تشویش ہے۔ یہ گروہ اسرائیلی پالیسیوں کو فلسطینیوں کی موجودہ حالت زار میں معاون کردار ادا کرتے ہوئے دیکھتا ہے -اسرائیلی جارحیت پر مسلسل مغربی حمایت اور فلسطینیوں کی نہ رکنے والی نسل کشی پر پوری دنیا کی جانب سے فلسطینی حمایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسرائیل ایک سخت گیر وزیر اعظم نتین یاہو کی سر براہی میں ایک بڑی حمایت سیمحروم ہو رہی ہے اور منصوبہ سازی کی قلت کا شکار ہے۔پرنسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے ماہر رچرڈ فالک نے اسرائیل کا سابقہ اپارتھائہڈ حکومت جنوبی افریقہ سے موازنہ کرتے ہوئے کہا نظریات کی جنگ میں شکست اسرائیل کے لیے ایک تباہ کن جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے۔-گزشتہ ہفتوں میں فلسطینیوں کی مزاحمت اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے۔سابقہ سفید فام جنوبی افریقی رہنماوں کی طرح نتین یاہو جو کہ بدعنوانی کے کئی الزامات کا سامنا کر رہے ہیں وہ اس تناو میں اضافہ کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل میں چار انتخابات ہو چکے ہیں مگر وہ دائیں بازو کی حکومت کے قیام کے لیے حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جو اسرائیل کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔اگرچہ واشنگٹن اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے اسرائیلی اقدامات پر اسے مورد الزام ٹھہرانے کے عمل کو روک دیتا ہے تاہم بین الاقوامی ادارے کے پیچھے ایک مضبوط اخلاقی اکثریت موجود ہے جو اسرائیلی اقدامات کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دیتی ہے – گیلپ سروے بتاتی ہے کہ امریکہ میں اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے بارے میں حالیہ برسوں میں بہت ساری چیزیں واضح ہوئی ہیں۔ اور مختلف پولز سے یہ بات سامنے آ ئی ہے کہ ایک وقت میں جو امریکی عوام اسرائیل کی حمایت کرتی تھی وہ اب اسرائیل کو غاصب قوت سمجھتی ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق جو کہ دو ماہ قبل مارچ میں کیا گیا تھا سے پتا چلتا ہے کہ فلسطین کی حمایت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ سابقہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ ہمدردی کہیں زیادہ تھی جو اب کم ہوکر فلسطینی حمایت میں بدل چکی ہے۔2019 میں ہونے والی ایک عوامی رائے کے مطابق 60 فیصد امریکی چاہتے ہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں کسی بھی فریق کی حمایت نہ کرے۔ اسی طرح مارچ 2019 میں ہونے والے ایک سروے کے اعدادو شمار اسرائیل کے لیے پریشان کن ہیں کیونکہ اس کو ایک وقت میں امریکی عوام کی مکمل حمایت حاصل تھی۔یہ عوامی سروے امریکی عوام کے اسرائیل کی جانب رویے میں بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ پول یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل میں امریکی جمہوریت پسند برابر کی تعداد میں اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر تقسیم دکھائی دے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت پسند یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اس تنازعے کو غیر جانبدار رہ کر حل کرے۔ حالیہامریکی انتخابات سے بھی ایسے اشارے ملے ہیں کہ جمہوریت پسند اسرائیل کی سیاست سے پریشان ہیں جس کی وجہ سے جمہوریت پسندوں کے اندر سے اسرائیل کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔فلسطینی زندگی کی وقعت ہے‘ کا ’بلیک لائیوز میٹر‘ (سیاہ فاموں کی زندگی کی وقعت ہے) کی مہم سے براہ راستہ تعلق ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں