مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی کابینہ کے وزرا نے پہلے مرحلہ میں ایک بل کی منظوری دی جس کے تحت اسرائیلیوں سے شادی کرنے والے فلسطینیوں کو اسرائیل میں اپنے شریک حیات کیساتھ رہنے کے اجازت نامہ حاصل کرنے سے روک دیا جائے گا۔میڈیاکے مطابق اسرائیلی وزیر داخلہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا کہ فلسطینیوں کو اپنے اسرائیلی شوہر یا بیوی کیساتھ اسرائیل میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

وزیر داخلہ کا موقف تھا کہ اسرائیل میں یہودیوں کی تعداد کو خطرہ ہے اور اگر فلسطینیوں کو یہاں رہنے کی اجازت دی گئی تو اسرائیلیوں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ بل، جسے بڑے پیمانے پر شہریت کا قانون کہا جاتا ہے نے وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی کا ووٹ پاس کر لیا ہے، جو اسے قانون سازی کے عمل کے ذریعہ تیزی سے ٹریک کرنے کی اجازت دیتا ہے، 9 وزرا کی جانب سے بل کی حمایت کی گئی۔نیا شہریتی قانون اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا

جہاں اکثریتی ووٹ کے بعد اسے قانون کی شکل دیدی جائے گی۔اس سے قبل 2003 میں بھی یہ بل پیش ہوا تھا لیکن اکثریتی ووٹس کی کمی کی بنا پر منسوخ کردیا گیا تھا تاہم بغیر کسی قانونی دفعات میں شامل کیے اسے فلسطینیوں کیخلاف قانون بنائے رکھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں