زائد از 25 فلسطینی زخمی ، جمعہ کی صبح جھڑپوں کے بعد فلسطینیوں کا زبردست اجتماع

مقبوضہ بیت المقدس: یروشلم میں واقع مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں 25 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعے کی صبح اسرائیلی پولیس مسجد کے احاطے میں داخل ہوئی اور وہاں موجود فلسطینی نوجوانوں پر آنسو گیس پھینکی اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔دو فلسطینیوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی پولیس کی جانب پتھراؤ کیا تھا جس کے بعد پولیس مسجد کے احاطے میں داخل ہوئی اور ربڑ کی گولیوں کے علاوہ اسٹن گرینیڈ بھی پھینکے۔اسرائیلی پولیس کے مطابق صبح کی نماز سے پہلے پتھراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا تاہم پولیس اہلکاروں نے نماز ختم ہونے کا انتظار کیا جس کے بعد وہ احاطے میں داخل ہوئے۔چند بڑی عمر کے فلسطینیوں نے نوجوانوں کو پتھر پھینکنے سے روکا بھی لیکن درجنوں کی تعداد میں نقاب پوش نوجوانوں نے پولیس کی جانب پتھراؤ کیا اور آتش بازی کی۔صورتحال تب قابو میں آئی جب فلسطینیوں کا ایک گروہ مسجد میں داخل ہوا اور جمعے کی نماز سے پہلے صفائی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جس کے بعد پولیس مسجد کے گیٹ سے باہر نکل گئی۔فلسطینی ریڈ کریسنٹ میڈیکل سروس کا کہنا ہے کہ کم از کم 31 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 14 کو ہسپتال پہنچایا گیا۔پولیس کے مطابق ایک خاتون پولیس افسر کے چہرے پر بھی پتھر لگا تھا جنہیں طبی امداد فراہم کی گئیمسجد الاقصیٰ مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام ہے اور جس مقام پر یہ تعمیر ہے وہ یہودیوں کے لیے بھی مقدس ترین مقام ہے جسے ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔اردن اور فلسطین نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ زیادہ تعداد میں یہودیوں کو مسلمانوں کے مقدس مقام پر آنے کی اجازت دے کر معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ماہ رمضان کے آخری دس دنوں میں یہودیوں کی اس مقام پر آنے کی پابندی عائد ہے تاہم اس سال یہودیوں کا تہوار پاس اوور رمضان کے ساتھ موافق ہے جبکہ عیسائیوں کی چھٹیاں بھی اسی دوران ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تینوں مذاہب کے ماننے والوں کا آج کل یروشلم کے قدیمی علاقوں میں رَش لگا ہوا ہے۔
بیت المقدس میں کشیدگی، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب
استنبول: انڈونیشیا کی درخواست پراسلامی تعاون تنظیم ’اوآئی سی‘ کا ہنگامی اجلاس آئندہ سوموار کو سعودی عرب میں طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں موجودہ کشیدگی صورت حال پرغور کیا جائے گا۔جمعرات کو او آئی سی نیوز ایجنسیوں کے فیڈریشن نے کہا کہ اجلاس مسجد الاقصی پر روزمرہ اسرائیلی حملوں کے دوران اس کے دروازوں کو بند کر کے انتہاپسندوں اور قابض اسرائیلی کی افواج اور اس کے اندر عبادت کرنے والوں کے حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔اوآ ئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے کئی فعال بین الاقوامی جماعتوں کے ساتھ رابطے اور مشاورت کی۔ او آئی سی نے القدس میں اسرائیلی ریاستی تشدد کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ القدس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظرعالمی برادری ، مسلم امہ اور عرب ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور القدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے حوالے سے اسرائیل کو پابند بنانا ہوگا۔خیال رہے کہ حالیہ ایام میں بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اوریہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی اور فلسطینی شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔