فلائٹ میں میں نے نہیں بلکہ خاتون نے خود ہی اپنی سیٹ پر پیشاب کیا!‘ گرفتار شدہ مشرا کاعدالت میں بیان

216

نئی دہلی: ایئر انڈیا کی فلائٹ میں ایک بزرگ خاتون پر پیشاب کرنے کے ملزم شنکر مشرا کے خلاف دہلی پولیس کی عرضی پر پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں سماعت کی گئی۔ دہلی پولیس نے شنکر مشرا کی تحویل کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کے تمام حقائق کے انکشاف کے لئے ملزم کو تحویل میں لینا ضروری ہے اور اس کے لئے واقعہ کے وقت اور اس سے پہلے کے طرز عمل پر غور کرنا ہوگی۔پولیس نے کہا کہ شنکر مشرا پولیس کے طلب کئے جانے پر بھی حاضر نہیں ہوئے، یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کہاں گئے اور کس سے ملے۔

عدالت نے سوال کیا کہ چوری جیسے کیس میں اس بات کا پتہ لگانا ہوتا ہے کہ ملزم گھر میں کس طرح داخل ہوا اور کس طرح فرار ہوا لیکن اس کیس میں بیان قلمبند ہو چکا ہے، پھر پولیس تحویل کی کیا ضرورت ہے؟ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پولیس تفتیش کے لیے پیشاب کے نمونے لینا چاہتی ہے؟معاملہ کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا ’’آپ طیارہ کے عملہ سے پوچھ گچھ کرتے تو وہ بتاتا کہ ملزم کو کتنی شراب پیش کی گئی۔ آپ خون کی جانچ نہیں کرا سکتے تھے۔ یہاں جرم یہ ہے کہ اس نے ایک خاتون کے سامنے اپنی سیٹ چھوڑ دی اور اپنی سیٹ پر واپس چلا گیا۔ یہ بدیانتی کا معاملہ نہیں ہے اور یہ جاننے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ شراب پی یا نہیں۔ پھر ملزم کو تحویل میں لینے کی ضرورت کیا ہے؟‘‘

دریں اثنا، شنکر مشرا کے وکیل رمیش گپتا نے سماعت کے دوران کہا ’’پورے معاملے کو دیکھو، کتنا ہنگامہ برپا کیا گیا۔ ایک ماہ بعد شکایت درج کروائی گئی۔ شکایت یہ تھی کہ ایئر انڈیا کو ٹکٹ کی رقم واپس کرنی چاہیے۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ ’8 اے‘ سیٹ ہولڈر نے پیشاب کر دیا، میری سیٹ ’8 B‘ تھی، بزنس کلاس بند ہو جاتی ہے اور آپ باہر نہیں جا سکتے۔ متاثرہ نے خود سیٹ پر پیشاب کر دیا، اسے صحت کا مسئلہ تھا، پولیس نے یہ بات کیوں نہیں بتائی، خاتون ایک کتھک رقاصہ تھی۔‘‘ اس پر عدالت نے پوچھا کہ شنکر مشرا نے پیشگی ضمانت کے لئے درخواست کیوں نہیں کی؟ اس پر رمیش گپتا کا کہنا تھا کہ ملزم کی خاتون سے کوئی دشمنی نہیں تھی، کیا پولیس نے اس بات کی تفتیش کی؟

اس پر پولیس نے عدالت میں کہا ’’ہم ملزم پر تھرڈ ڈگری ٹارچر کا استعمال نہیں کر رہے۔ ہمیں صرف تفتیش کرنی ہے۔ صرف تین دن کی تحویل کا ہی تو مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہم نے جب پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا تو انہوں نے تعاون نہیں کیا۔ سامنے نہیں آئے۔‘‘پٹیالہ ہاؤس سیشن عدالت نے شنکر مشرا کی پولیس ریمانڈ کے مطالبہ کے معاملہ کو دوبارہ سماعت کے لیے میٹرو پالیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں بھیج دیا ہے۔ سیشن عدالت نے دہلی پولیس کو میٹروپالیٹن مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے نئے حقائق پیش کرنے کی آزادی دی ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے فی الحال دہلی پولیس کو شنکر مشرا کی تحویل نہیں دی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ سال 26 نومبر کو ایئر انڈیا کی نیویارک-نئی دہلی فلائٹ کی بزنس کلاس میں نشے میں دھت شخص نے مبینہ طور پر 70 سال سے زیادہ عمر کی خاتون ساتھی مسافر پر پیشاب کر دیا تھا۔ خاتون نے پولیس کو معاملے کی تحریری شکایت دی تھی۔