فساد فی الارض کے الزام میں ایرانی خاتون بلاگر قید، سزائے موت کا خطرہ

339

ایرانی خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد 16 ستمبر کو شروع ہونے والے مظاہرے 100 ویں دن میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایرانی دارالحکومت تہران اور کرج، سنندج، اصفہان، مشہد، بندر عباس، اھواز، بابل اور دیگ شہروں کے کم از کم 6 علاقوں میں ہفتے کی شام بھی مظاہرے کئے گئے۔

ایرانی انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایجنسی "ھرانا” کے مطابق حکام کی جانب سے شروع کیے گئے خونی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم از کم 506 مظاہرین مارے گئے، جن میں 69 نابالغ بھی شامل تھے۔گرفتاریوں کی تعداد 18,516 تک پہنچ گئی ہے۔ رواں ماہ دو مظاہرین کو پھانسی دینے کے بعد ایران کو شدید ملکی اور بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔

ایک طرف ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں۔ دوسری طرف ویڈیو کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بسیج میں لڑکیاں "ولی عصر” کے ہیڈ کوارٹرز کو آگ لگا رہی ہیں۔ درجہ حرارت میں بڑی کمی اور شدید سردی کے باوجود وسطی ایران کے شہر اصفہان اور دیگر شہروں میں برفباری کے دوران بھی مظاہرے کئے گئے۔