جموں وکشمیر کے کپواڑہ ضلع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو لیڈروں اور ان کے پی ایس او کو گرفتار کیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کپواڑہ ضلع کے بی جے پی صدر کے بیٹے اشفاق احمد اور بی جے پی کے کپواڑہ ضلع کے ترجمان بشارت احمد کو پیر کو گرفتار کیا گیا۔ ان دونوں کو زیادہ سیکورٹی کور حاصل کرنے کے لئے مبینہ طورپر فرضی دہشت گردانہ حملے کی کہانی بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ مسٹر اشفاق کے دو سیکورٹی گارڈوں کو بھی اس کی (مسٹر اشفاق) اور مسٹر بشارت کے ساتھ ساز باز کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے لیڈروں نے 16 جولائی کو دو سیکورٹی گارڈوں کی ساز باز سے سیکورٹی بڑھانے کے لئے کپواڑہ میں ایک دہشت گردانہ حملے کی کہانی بنائی۔ مسٹر اشفاق کے ہاتھ میں گولی لگی اور اس کا علاج مقامی اسپتال میں کیا گیا۔

پولیس نے حالانکہ دہشت گردانہ حملے کے دعوے کو خارج کردیا اور کہاکہ دوسیکورٹی گارڈوں میں سے ایک کی سروس رائفل سے حادثاتی طورپرچل گئی جس کے نتیجہ میں مسڑاشفاق زخمی ہوگئے۔

ذرائع نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران ملزمین نے قبول کیا کہ یہ فرضی تھا۔ ذرائع نے کہا کہ اس قبول نامہ کے بعد ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا اورپیر کو کپواڑہ کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملزمین کو سات دن کے لئے پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔