"فردوس بریں: ایک مطالعہ….!”

114

ایس ایم حسینی
فون نمبر 896051297.04/ندوہ کیمپس، ڈالی گنج، لکھنؤ.

فردوس بریں کا نام تو سنا ہوگا، یقینا سنا ہی ہوگا اور جانے کی تمنا بھی ہوگی، ادبی اور علمی حلقوں میں اپنی دلچسپیوں سے قاری کو گرویدہ کرلینے والی کتاب "گذشتہ لکھنؤ” اور اس کے مصنف ایک ہی ہیں، 1888 میں "ملک العزیز ورجینا” کے عنوان سے اردو ادب میں تاریخی ناول کی داغ بیل ڈالنے والے اور اردو میں پہلی آزاد نظم "سمندر” کے خالق عبدالحلیم شرر نے 1960 میں علوم کے اعتبار سے ہندوستان کے قرطبہ کہے جانے والے شہر لکھنؤ میں آنکھیں کھولیں، شرر تخلص کرتے تھے، اور فن شاعری میں نظم طباطبائی کے شاگرد تھے، لکھنؤ کے ساتھ ساتھ کلکتہ کے مٹیابرج میں بھی زندگی کے دن گزارے اور حیدرآباد میں بھی سالوں قیام رہا.
شرر نے زیر نظر کتاب "فردوس بریں” حیدرآباد کے قیام کے دوران ہی لکھ کر مکمل کی، آپ نے تاریخی ناول، ناول، ڈرامے اور متعدد کتابوں کے ترجمے بھی کئے، سوانحی و تاریخی تصانیف کے ساتھ کم وبیش پچاس ناول لکھے، شاعری میں بھی قابل قدر تخلیقات چھوڑیں، اور شعبہ صحافت میں بھی اپنا چوکھا رنگ دکھایا، متعدد رسالوں اور اخبارات سے بھی وابستہ رہے،1881ء میں "اودھ اخبار” لکھنؤ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے، کچھ سالوں بعد ماہنامہ دلگداز جاری کیا، اور اس کے تین سال بعد 1890ء میں اپنی نوعیت کا پہلا منفرد ہفت روزہ "مہذب” نکالا، پھر آخری زمانے میں روزنامہ "ہمدرد” کے ایڈیٹر بھی ہوئے.
"فردوس بریں” شرر کے قلمی لہو سے جِلا پانے والی ایک بھرپور ناول ہے، جو پانچویں صدی ہجری میں عالم اسلام کے چہرے پر سیاہی مَلنے والے فرقہ قرامطہ کی تحریک، ان کی سازشوں اور سادہ لوح انسانوں پر نت نئے ہتھکنڈے، حسن بن صباح کی مصنوعی جنت کی سیر کرانے کے ساتھ ان کے بے بنیاد عقائد کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے، یہ ناول ایک سو چھیتر (176) صفحات اور "پریوں کا غول، پیاری زمرد تو کہاں گئی، ملاء اعلیٰ کا سفر، فردوس بریں، پھر وہی عناصر، مردود ازلی، بلغان خاتون کا سفر، افشائے راز، اور انتقام” جیسے ذیلی عنوانات کے ساتھ نو ابواب پر مشتمل ہے.
شرر نے ناول کی ابتداء فرقہ باطنیہ کے آخری دور سے کی ہے، جب کہ یہ تحریک نوع بنوع کی سیاسی چالبازی، مکر وفریب، اور سازشوں کے ساتھ ایک سلطنت کا روپ دھارنے کے بعد بام عروج کو چوم کر اب انگلی کے پُوروں پہ اپنی عمر کی آخری سانسیں گن رہی ہے، البتہ میرے تجربہ کے مطابق آپ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بخوبی محسوس کرینگے کہ یہ سلطنت باطنیہ و ملاحدہ کا جوبن بھی ہے اور اختتام بھی، ناول کا آغاز شرر زمانی تعین کے ساتھ یوں کرتے ہیں: "اب تو 651ھ ہے، مگر اس سے ڈیڑھ سو سال پیشتر سیاحوں اور خاصیتا حاجیوں کے لئے وہ کچی اور اونچی نیچی سڑک نہایت ہی اندیشہ ناک اور پُر خطر تھی جو بحر خزر کے جنوبی ساحل سے شروع ہوتی ہے”

باطنی تحریک کی عمر ڈیڑھ سو سال ہوچکی ہے اور اس خاندان کا چشم وچراغ رکن الدین خوارشاہ ہے، جو مذہبی امام و رہنما ہونے کے ساتھ مصنوعی جنت سے چمٹا ہوا قلعہ التمونت کے تخت پر شاہانہ سج دھج کے ساتھ حور وغلمان کے مزے لے رہا ہے، شرر نے قلمی صناعی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جگہ جگہ دودھ و شہد کی نہروں کے ساتھ عشق و محبت کے سرخ گلاب بھی کھلائے ہیں، جو قاری کو اپنے حصار میں جکڑ لیتے ہیں، یہ ناول "حُسین” نامی ہیرو کی جرات و شجاعت کے واقعات سے معمور ایک تاریخی اور رومانی قصہ ہے، جو شہر آمل سے راتوں رات اپنی محبوبہ "زمرد” کو لے کر سفر حج کے ارادہ سے نکل پڑتا ہے، لیکن مقام قزوین پہنچنے کے بجائے کوہسار طالقان کے دامن میں زمرد کے کہنے پر نہر ویرنجان کے کنارے کنارے چلتے ہوئے دشوار گزار گھاٹی عبور کرکے ایسے مرغزار میں پہنچ جاتا ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ "یہاں پریوں کے بڑے بڑے ہوش ربا غول ناگہاں نکل پڑتے ہیں، اور جو کوئی یکہ وتنہا ان پریوں کے غول میں پڑجاتا ہے فورا مرجاتا ہے” اور اسی وادی میں زمرد کا بھائی پریوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر کر ایک قبر میں مدفون سکون کی نیند لے رہا ہے، کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب موسی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد پریوں کا غول نظر آتا ہے اور دونوں آن کی آن میں بیہوشی کی کھڈ میں جا گرتے ہیں، ہوش میں آکر حسین موسی کی قبر کے پاس ایک قبر اور دیکھتا ہے جس پر زمرد کا نام کندہ ہے، پھر حسین کی آزمائش اور باطنی مکر کا دور شروع ہوتا ہے، یوں اچانک ظہور پذیر ہونے والی جدائی سے حسین کا جذبہ عشق مزید آتشیں ہوجاتا ہے اور وہ کسی طور زمرد کی قبر سے ٹلنے کا نام نہیں لیتا، آخر کار ایک دن اسے زمرد کا لکھا خط ملتا ہے، اور فرقہ باطنیہ کی مکروہ چالوں کے ساتھ کہانی دوڑنے لگتی ہے، پھر سیاہی سے لبریز صفحات پر شیخ علی وجودی، کاظم جنوبی اور شیخ الجب جیسے دلچسپ، قاری کو بھونچکا اور ٹھٹھک کر رکنے پر مجبور کردینے والے کردار ابھرتے ہیں، یہ تینوں فرقہ باطنیہ کے پیروکار ہیں، اور کاظم جنوبی فقیر کے روپ میں شیخ وجودی کا اسسٹنٹ، حسین کے ساتھ شیخ وجودی اور "طور معنی” کے مکالمے بہت ہی دلچسپ ہونے کے ساتھ ان کی طوالت اکتا دینے والی بھی ہے، شیخ علی وجودی جو شعبدہ بازی میں مہارت رکھتا ہے، پہلے پہل تو حسین کو مکمل اپنے قابو میں کرتا ہے اور پھر زمرد کے عشق اور اس سے ملنے کی چاہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنت کا وعدہ کرنے کے ساتھ حسین کے ہاتھوں "امام نجم الدین نیشاپوری” کا قتل کرواتا ہے، جو کہ رشتہ میں اس کے چچا بھی لگتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی سیاسی یا مذہبی رہنما جو باطنیوں کے راہ کا روڑا بنتا تھا وہ اس کو اپنی تدبیروں سے اسی طرح ٹھکانے لگا دیتے تھے، اس کارِ عظیم کے صلہ میں حسین قلعہ التمونت کے پہلو میں آباد جنت ارضی "فردوس بریں” کی سیر کرتا ہے، جہاں دودھ و شہد کی نہریں، مخملی فرش، سدھائے ہوئے پرندوں کی حرکات، پھلوں کی بہتات اور سونے چاندی کے محلات، جواہرات کی ریل پیل کے ساتھ ہر کچھ میسر ہوتا ہے، تبھی حوران فردوس کے درمیان حسین کی ملاقات اپنی زمرد سے بھی ہوتی ہے، اور کچھ ہی قیام کے بعد وہ دوبارہ "عالم عناصر” میں پہنچا دیا جاتا ہے، لیکن اب فردوس بریں میں زمرد سے جا ملنے کی خواہش شدت پکڑ لیتی ہے، اور اس بار "امام نصر بن احمد” کے خون سے اس کے ہاتھ رنگتے ہیں، لیکن زمرد سے ملاقات کی تمنا حسرت ہی رہ جاتی ہے، ایک بار پھر وہ کوہ البرز میں واقع اس گھاٹی میں لوٹتا ہے جہاں اس کی محبوبہ زمرد کی قبر ہے، اس بار یہاں زمرد کی جانب سے اسے دو خط ملتے ہیں، جنہیں لیکر وہ سلطنت تاتار "قراقرم” جا پہنچتا ہے اور ہلاکو خان کی بہن بلغان خاتون سے ملکر تنہائی میں زمرد کا خط دیدیتا ہے، خط دیکھتے ہی وہ سپاہیوں کے ساتھ کوچ کرکے کوہ طالقان زمرد کی قبر پر پہنچتی ہے اور رمضان کی 27 ویں تاریخ یعنی "عید قائم قیامت” کے دن اشاروں کو تلاش کرتی ہوئی فردوس بریں کے خفیہ دروازے سے داخل ہوکر زمرد سے جاملتی ہے، آج کے روز سبھی فردوس بریں سے متصل قلعہ التمونت میں تحریک باطنی کا سالانہ جشن منارہے ہوتے ہیں، اور حسین فردوس بریں کو "عالم عناصر” میں پاکر دنگ رہ جاتا ہے، زمرد جنت ارضی کے تمام بھیدوں کا پردہ فاش کرتی ہے، اسی درمیان ہلاکو خان بھی اپنی بہن کی مدد کے لئے جنت میں پہنچ جاتا ہے، زمرد، بلغان خاتون اور ہلاکو خان کو فوج سمیت قلعہ میں پہنچاتی ہے اور اشارہ ملتے ہی ہلاکو کا بھتیجا طوبی خان قلعہ کے صدر دروازے پر یورش کرتا ہے، محفل طرب میں اک کہرام مچ جاتا ہے اور سارے حور و غلمان حواس باختہ جان بچانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں، ذرا ہی دیر میں زمین خون اگلنے لگتی ہے، یہاں حسین جواں مردی کا مظاہرہ کرتا ہے، اور اپنے ہاتھ سے کاظم جنوبی، شیخ علی وجودی کو قبر میں پہنچاکر خورشاہ پر یلغار کرتا ہے لیکن اس کی بیکسی جان بخشی کرادیتی ہے، علاوہ ازیں ہلاکو خان کے حکم سے اسے ترکستان بھیج دیا جاتا ہے، یوں ایک ایک کرکے سب اپنے انجام کو پہنچتے ہیں اور فردوس بریں خاک میں مل جاتی ہے.

ناول میں منظر کشی، کرداروں کی رنگا رنگی، دلچسپ مکالمے، استعارے، عمدہ الفاظ وتعبیرات اور گٹھے ہوئے خوبصورت جملوں کے ساتھ ٹکسالی زبان قاری کو آس پاس کے ماحول سے بیگانہ کردیتی ہے، اور شرر جنت کے تصور کو لفظی جامہ پہنانے میں حتی الامکان کامیاب معلوم ہوتے ہیں، ڈاکٹر قمر رئیس لکھتے ہیں: "اس ناول کی منظر نگاری اور ماحول کشی میں شرر کی صناعی درجہء کمال پر نظر آتی ہے، اس کے تمام کردار منفرد جاندار ہیں، اور اس کے پلاٹ کی تعمیر انتہائی فطری اور متوازن ڈھنگ سے ہوئی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تمام تخلیقی صلاحیتوں اور تاریخی شعور نے اپنے مکمل اظہار کے لئے اسی ناول کا انتخاب کیا” عبدالحلیم نے پورے ناول میں چار مقامات پر انگریزی کے تین لفظ "نیچر” پرست، خوفناک "سین” اور "کانشینس” استعمال کئے ہیں، جو لباس حریر و اطلس میں پیوند معلوم ہوتے ہیں، اور لمحہ بھر کے لئے قاری کچھ سوچنے کے انداز میں ایک لمحہ کو ٹہرتا ہے، لیکن جلد ہی قاری شرر کی منظر کشی اور زبان وبیان کی خوش دامانی میں محو ہوکر سب کچھ بھول جاتا ہے، اور کچھ بعید نہیں کہ چند صفحے پڑھتے ہی رات کتاب کے اختتام کی چاہ میں کٹ جائے.