فرانس میں پیش امام کی جانب سے خطبے میں ’جہاد کا دفاع‘ کرنے کے الزام میں مسجد چھ ماہ کے لیے بند

0 42

فرانس کے شمالی علاقے واز میں ایک مسجد کو یہ کہہ کر بند کر دیا گیا ہے کہ وہاں کے پیش امام نے اپنے ’انتہا پسندی‘ پر مبنی خطبات میں ’جہاد کا دفاع‘ کیا تھا۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بووہ نامی علاقے میں واقع یہ مسجد اب آئندہ چھ ماہ تک بند رکھی جائے گی۔واز کے حکام کے مطابق ان خطبات میں جہاد کے نام پر لڑنے والوں کو ’ہیرو‘ کہا گیا تھا اور اس طرح لوگوں کو نفرت اور تشدد پر اُکسایا جا رہا تھا۔فرانس بھر میں حالیہ دنوں میں ایسی مساجد کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جہاں حکام کے مطابق انتہا پسندی پر مبنی نظریات کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔دو ہفتے قبل فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمنان نے کہا تھا کہ بووہ کی ایک معروف مسجد کو بند کرنے کی کارروائی شروع کر رہے ہیں۔ یہ پیرس سے 100 کلومیٹر شمال کی جانب واقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے پیش امام اپنے خطبات میں ’مسیحیوں، ہم جنس پرستوں اور یہودیوں‘ کو ہدف بنا رہے تھے۔حکام نے اس مسجد کو بند کے ساتھ ساتھ مسجد کی انتظامیہ سے 10 روز میں جواب بھی طلب کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک مقامی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد کے پیش امام نے کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا تھا۔ مسجد کے ساتھ منسلک ایک ایسوسی ایشن کے وکیل کا کہنا ہے کہ پیش امام کے بیان کو ’سیاق و سباق سے ہٹ کر‘ لیا گیا تھا۔وکیل کا کہنا ہے کہ یہ پیش امام ’رضاکارانہ طور پر بول رہے تھے‘ اور انھیں معطل کر دیا گیا ہے۔مگر وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ شخص ’جسے کبھی کبھار خطبہ دینے والا قرار دیا جا رہا ہے وہ حقیقت میں باقاعدہ پیش امام کی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔‘ بیان کے مطابق وہ ’سخت گیر اسلام‘ اور ’قوانین اور ریاست پر اس (اسلام) کی برتری‘ کا دفاع کرتا تھا۔

گذشتہ برس فرانس کے وزیر داخلہ نے انتہا پسندی سے جڑی مساجد کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان مساجد کو بند کیا جا سکتا ہے جو علیحدگی پسند سوچ کی حوصلہ افزائی کریں گی۔یاد رہے کہ گذشتہ سال فرانس میں سیموئل پیٹی نامی سکول ٹیچر نے اپنے طالب علموں کو پیغمبرِ اسلام سے متعلق خاکے دکھائے تھے جس کے بعد انھیں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد نیس شہر کے ایک گرجا گھر میں چاقو کے حملہ کر کے تین افراد کو قتل کیا گیا تھا۔ دونوں واقعات میں فرانسیسی حکام کی جانب سے ’انتہا پسند سوچ کے حامل افراد‘ کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔فرانس میں وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس نے گذشتہ مہینوں کے دوران قریب 100 مساجد اور عبادت گاہوں کی تحقیقات کی ہیں۔ فرانس میں مجموعی طور پر 2620 سے زیادہ مساجد موجود ہیں۔