الہ آباد: فجر کی اذان لائونڈ اسپیکر پر دینے کا تنازعہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ایک طرف الہ آباد (پریاگ راج) میں فجر کی اذان سے سنٹرل یونیورسٹی کے ایک وائس چانسلر نے ان کی نیند میں خلل پڑنے کی شکایت کی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی حکمران والی ایک اور ریاست کرناٹک میں مسجدوں اور درگائوں میں رات کے اوقات لائوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ الہ آباد کی سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواتسو نے ضلع مجسٹریٹ میں شکایت درج کرائی ہے کہ فجر کی اذان کی وجہ سے ان کی نیند میں خلل پڑرہا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں نیند نہیں آتی ہے، سارا دن سر میں درد رہتا ہے، کام پر بھی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے مقامی ضلع مجسٹریٹ کو مکتوب لکھ کر شکایت کی کہ وہ کسی فرقہ، ذات یا طبقے کے خلاف نہیں ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اذان لائونڈ اسپیکر کے بغیر بھی دی جاسکتی ہے تاکہ کسی دوسرے شخص کو تکلیف نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں سہری کا اعلان بھی صبح 4 بجے کیا جائے گا۔ اسی صورتحال میں ان کی پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں