غیر ملکی تبلیغی جماعت:جج سیولیکر کا اپنے ساتھی جج کے بعض مشاہدات سے عدم اتفاق

0

چار صفحات پر مشتمل علیحدہ حکم جاری

ممبئی / اورنگ آباد 31 اگست (یو این آئی)عوام میں ملکی عدالتی نظام پر اعتماد اور یقین کو بڑھانے والے 21 اگست کے ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے فیصلے پر ،جس میں عدالت نے 29 غیر ملکی تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے کرانھیں ‘ بلی کا بکرا ‘ بنائے جانے کا تذکرہ کیا ہے، دستخط کرنے والے دوسرے جج سیولیکر نے اپنے ساتھی جج کے بعض مشاہدات سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہوے چار صفحات پر مشتمل ایک علیحدہ حکم میں کہا ہے کہ وہ جسٹس نالاواڑے کی جانب سے این آر سی اور سی اے اے سے متعلق ریمارکس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔


واضح رہے کہ ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے اپنے فیصلے میں بہت ہی سخت الفاظ میں تنقید کر کے اپنے مشاہدات اور تبصرے میں کہا تھا کہ ” اس کارروائی سے ہندوستانی مسلمانوں کو بالواسطہ انتباہ دیا تھا کہ کسی بھی شکل میں اور کسی بھی چیز سے بھی مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔” بنچ نے کہا تھا کہ ملزموں کو "قربانی کا بکرا” بنایا گیا تھا اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے تھے کہ وہ ملک میں کورون وائرس پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے "سیاسی مجبوری” کے تحت کام کیا ، اور تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف ایک بہت بڑا پروپیگنڈا کیا گیا۔


21 اگست کے اس فیصلے میں کیے گیے بعض تبصروں اور مشاہدات سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے جج سیولیکر نے اپنے کہا ، وہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف ہونے والے احتجاج پر مسلم برادری کے ممبروں کے خلاف کارروائی کے بارے میں اپنے ساتھی جسٹس ٹی وی نلاوڈے کے تبصرے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔21 اگست کو عدالت نے کہا تھا ، ” ایک سیاسی حکومت جب وبائی مرض یا آفات کی صورت میں قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور حالات ظاہر کرتے ہیں کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ان غیر ملکیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کے لئے ان کا انتخاب کیا گیا تھا۔”


تاہم ، 21 اگست کو ہی، جسٹس سیولیکر نےاپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ وہ صرف فیصلے کے آپریٹو حصے (ایف آئی آر کو ختم کرنے) حکم سے اتفاق کرتے ہیں اور وہ کچھ مشاہدات پر جسٹس نلاوڈے سے اتفاق نہیں کرتے تھے ، اور ایک الگ حکم پاس کریں گے۔ جس کے بعد جعمہ کو انھوں نے ایک چار صفحات پر مشتمل حکم جاری کرے کے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ جستس نلاوڑے کے بعض مشاہدات سے متنفق نہیں ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ "مجھے مشاہدات (سی اے اے اور این آر سی پر) سے اتفاق کرنا مشکل ہے کیونکہ درخواستوں میں اس سلسلے میں الزامات عائد نہیں کیے جاتے ہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ثبوت موجود ہے۔
جسٹس سیولیکر نے کہا ، "لہذا ، میری رائے میں یہ مشاہدات درخواستوں کے دائرے سے باہر ہیں۔”
واضح رہے کہ 29 غیر ملکی تبلیقی جماعت کے درخواست گزاروں پر دفعہ 188 ، 269 ، 270 ، 290 کے تحت دفعہ 37 (1) (3) آر / ڈبلیو ، مہاراشٹر پولیس ایکٹ 1951 کے 135 اور مہاراشٹر کوویڈ 19 ، پیمائش اور قواعد ، 2020 11 ، وبائی امراض ایکٹ ، 1897 کی دفعہ 2 (3) اور 4 ، غیر ملکی ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 (بی) ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کے سیکشن 51 (بی) درج کیا گیا تھا۔ جنھیں ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے 21 اگست کو منسوخ کر دیا تھا۔