غلط فہمی پیدا کرنے والے پیغام کے بعد این اے ائی نے ڈاکٹر سے کی پوچھ تاچھ

0 0

غلط فہمی پیدا کرنے والے پیغام کے بعد این اے ائی نے ڈاکٹر سے کی پوچھ تاچھ

دہلی کے ماہرقلب ڈاکٹر اوپیندر کاؤل جو دہوں سے یسین ملک کے مختلف قلبی امراض کا علاج کررہے ہیں سے قومی تحقیقاتی ادارے نے ملک کے ایک دستاویز پر وضاحت طلبی کے طلب کیا

نئی دہلی۔ قومی تحقیقاتی ادارے (این ائی اے) نے ڈاکٹر اوپیندر کاؤل سے جو کہ ہندوستان کے ایک ماہر قلب ہیں سے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف)کے لیڈر یسیین ملک کے خون پتلا ہونے کے متعلق ایک پیغام کی غلط ترجمانی پر تفتیش کی۔

یسین ملک کی جانب سے ڈاکٹر کاؤل کو پیغام کیاکہ جو ماضی میں ان کے قلب کے علاج پر مشتمل تھا کہ ”بلڈ رپورٹ کی قدر ائی این آر 2.78“ ہے۔

مذکورہ ایجنسی نے اس کو انڈین روپئے کے حوالے سے دیکھا۔ڈاکٹر کاؤل نے ایچ ٹی کو بتایا کہ ”میڈیکل کی زبان میں تاہم ائی این آر کا مطلب انٹرنیشنلائزڈ‘ نارمالائزڈریشیو ہے۔

مذکورہ این ائی اے نے ائی این آر کو ہندوستانی روپیہ کے طور پر لیا اور اندازہ لگایاکہ 2.78کروڑ حوالہ کی رقم ہے۔

انہیں (این ائی اے تحقیقات کرنے والوں) کو کچھ ہوم ورک کرلینے چاہئے“۔

ملک کو ڈاکٹر کاؤل کے پاس 1990کے دہے میں سکیورٹی ایجنسیوں میں سے کسی ایک نے علاج کے لئے لایاتھا۔

انہوں نے کہاکہ وہ این ائی اے کو بتائیں کہ ملک ان کا مریض رہے ہیں‘ ان سے قلب کے متعلق علاج کراتے ہیں اور دستاویزات میں جو چیز شامل ہے وہ یہی ہے۔

دو معاملات میں ملک تہاڑ جیل میں بند ہیں‘ جس میں دہشت گردی کے متعلق رقم اکٹھا کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

جموں او رکشمیر کے خصوصی موقف کو برخواست کرنے او رکمیونکیشن پر مہر لگانے کے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلے پر کاؤل نے شدید تنقید کی ہے اور سوشیل میڈیا پر یہ قیاس لگایاجارہا ہے کہ اس کے نتیجے میں این ائی اے کی کار وائی ہوسکتی ہے۔

این ائی اے مختلف گروپس سے دہشت گردی کے لئے رقم اکٹھا کرنے کے متعلق میں جانچ کررہا ہے اور کئی وقت سے مختلف لوگوں کے ساتھ ملک کے مالی تبادلے کی بھی جانچ کررہا ہے۔

ایک سینئر افیسرجس نے نام ظاہر کرنے کی خواہش پر کہا ہے کہ ”ہم ہر کسی کی جانچ کررہے ہیں۔ ہمارے پاس کئی دستاویزات ہیں‘ ہر منٹ کی جانچ کررہے ہیں کہ تاکہ حقائق کو یقینی بناسکیں‘ جس پر عدالت میں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی“

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-