غزہ کے 80فیصد بچے ڈپریشن کا شکار ، سخت پابندیوں کا نفسیات پر اثر

بیس لاکھ کی آبادی میں آٹھ لاکھ بچوں کو نہیں معلوم کہ ناکہ بندی کے بغیر زندگی کیسے ہوتی ہے : رپورٹ

غزہ : غزہ پندرہ سال سے اسرائیل کی ناکہ بندی میں ہے اس وجہ سے وہاں کے بچوں کی نفسیات پر اثر پڑرہا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیاکہ غزہ کے 80 فیصد بچے ڈپریشن کا شکار ہیں۔ غزہ میں رہنے والے آٹھ لاکھ بچوں کو نہیں معلوم کہ بغیر ناکہ بندی کے زندگی کیسے ہوتی ہے۔ ان حالات سے ان کی دماغی صحت بری طرح متاثرہورہی ہے۔ سیو دی چلڈرن تنظیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بات کہی۔ اس رپورٹ کا عنوان ٹرابڈ ہے۔ اس انٹرویو کے دوران چار سو اٹھیاسی بچوں اور ایک سو اڑسٹھ ماں باپ سے بات چیت کی گئی۔ تنظیم نے 2018 میں بھی ایسا ہی ایک سروے کیا تھا۔ اسرائیل نے جون دو ہزار سات میں غزہ کی ناکہ بندی کی جس سے غزہ کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ ان پابندیوں کی وجہ سے غزہ میں آنا جانا اور سامان لانا یا لے جانا بہت مشکل ہے۔غزہ کی آبادی تقریباً دو ملین ہے جس میں سے سینتالیس فیصد بچے ہیں۔ سیو دی چلڈرن تنظیم نے کہا کہ غزہ کے آدھے سے زیادہ بچوں نے کبھی نہ کبھی خودکشی کے بارے میں سوچا اور ہر پانچ میں سے تین بچوں نے اپنے آپ کو نقصان پہونچانے پر غور کیا -ان حالات کی ایک وجہ یہ ہے کہ بچوں کو بنیادی علاج میسر نہیں ہے۔اکسپرٹس نے بتایا کہ ان بچوں پر نفسیات کے اثرات کا ان کی زندگیوں اور آنے والے وقت میں برا اثر پڑسکتا ہے- کئی بچوں کو بات کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور کئی بچے بنیادی کام کرنے میں دشواری محسوس کررہے ہیں۔ ڈائرکٹر سیو دی چلڈرن جیسن لی نے کہا کہ ان حالات سے دنیاکو جاگ جانا چاہیے۔2008 کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسلسل ناکہ بندی سے علاج پہونچانے والے لوگ اپنی صلاحیتیں برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔سیو دی چلڈرن نے اسرائیلی حکومت سے کہا کہ وہ فوری غزہ کی ناکہ بندی برخاست کرے اور اپنا قبضہ ختم کرے۔ تنظیم نے کہا کہ تمام فریقوں کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کی جڑوں تک پہونچیں اور ان تمام بچوں اور خاندانوں کی حفاظت کیلئے قدم اٹھائیں جنہیں عزت اور حفآظت کی ضرورت ہے۔ ہمیں فوری مسئلہ ختم کرنا چاہیے اور محرومیوں کو دور کرنا چاہیے۔