غزوۂ ہند یا ہندوؤں کا قتلِ عام ہمارا ایجنڈا نہیں: پاپولر فرنٹ آف انڈیا

816

بنگلورو:(ایجنسیز)پاپولر فرنٹ آف انڈیا یا پی ایف آئی کے جنرل سکریٹری انیس احمد نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم ‘حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں کی پُرزور مخالفت کرتی رہی ہے اور مسلمانوں میں اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے طاقت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس لیے ہمیں ایک مجرِم اور دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حال ہی میں پٹنہ پولیس نے کہا ہے کہ شہر میں چھاپے کے دوران اسے پی ایف آئی کی دستاویز ملی ہے جس کا عنوان ہے ‘انڈیا 2047، اسلامی حکومت کی جانب‘۔ پولیس کے مطابق ‘اس میں مسلمانوں کے ایک گروہ کی مدد سے اکثریتی برادری کو کچلنے اور انڈیا میں اسلام کی شان کو بحال کرنے کی بات کی گئی ہے۔پٹنہ پولیس کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ دستاویز میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ ضرورت پڑنے پر ترکی اور دیگر اسلامی ممالک سے مدد لی جائے گی ۔

انیس احمد کہتے ہیں، ‘نہ تو ہمارے پاس غزوۂ ہند کا کوئی تصور ہے، نہ ہم انڈیا کو ایک اسلامی ملک بنانا چاہتے ہیں اور نہ ہی ہندوؤں کا قتل ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ’انڈیا 1947، لوگوں کو با اختیار بنانا’ اس عنوان سے ایک دستاویز ہے جسے ‘امپاور انڈیا فاؤنڈیشن نے تیار کیا تھا اسے انڈیا کی آزادی کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر ممتاز جج جسٹس راجندر سچر نے دہلی میں ریلیز کیا تھا۔جنوبی انڈیا میں شروع ہوئی اور اب انڈیا کی 23 ریاستوں میں پھیل چکی اِس اسلامی تنظیم کی فنڈنگ اور بیرونی ممالک سے اس کے روابط کے بارے میں بار بار کئی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں اور پی ایف آئی ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا، حالانکہ انیس احمد نے بہت سے سوالوں کا براہ راست جواب نہیں دیا، جیسے کہ پی ایف آئی کے کارکن بار بار کیوں تشدد میں ملوث پائے جاتے ہیں، تنظیم کے ارکان کا ریکارڈ کیوں نہیں رکھا جاتا، کیا اس لیے کہ اگر وہ کسی مجرمانہ سرگرمی وغیرہ میں پکڑے جاتے ہیں تو پی ایف آئی پہچاننے سے انکار کر سکے، وغیرہ وغیرہ۔دہشت گرد تنظیم کہلائے جانے پر انیس احمد کہتے ہیں، ‘دہشت گرد تنظیم ہونے کے لیے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت ہونے چاہئیں۔ پی ایف آئی پر جو الزامات ثابت ہوئے ہیں ان میں سے کسی کا بھی دہشت گردانہ سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے’۔

 

آر ایس ایس پر الزامات لگتے ہیں:انیس احمد کا کہنا ہے کہ ‘اجمیر میں درگاہ میں دھماکہ ہوا تھا جس میں آر ایس ایس کے سینئر رہنما اندریش کمار کے خلاف تحقیقات ہو رہی تھیں، چارج شیٹ میں نام بھی تھا، مالیگاؤں کیس کی بھی تحقیقات ہوئی، ایسی تنظیموں اور افراد کو دہشت گرد نہیں کہا جاتا لیکن اگر کسی مقامی مجرمانہ سرگرمی میں پی ایف آئی سے وابستہ کسی شخص کا نام سامنے آیا تودہشت گرد تنظیم کہا جا رہا ہے، یہ تودرست نہیں ہے۔
جن مجرمانہ واقعات میں پی ایف آئی کا نام آیا ہے وہ معمولی واقعات تھے:2010 میں، ملیالم پروفیسر ٹی جے جوزف کے ہاتھ کو کلہاڑی سے کاٹ دیا گیا، جن پر پیغمبر اسلام کی توہین کا الزام تھا۔ بعد میں جن لوگوں کو اس کیس میں عدالت نے سزا سنائی ان میں پی ایف آئی کے لوگ بھی شامل تھے۔کچھ سال قبل کیرالہ کے ایرناکولم میں بائیں بازو کے طالب علم رہنما ابھیمنیو کے قتل میں پی ایف آئی کے کئی عہدیداروں کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی گئی تھی۔انیس احمد نے اعتراف کیا کہ پروفیسر جوزف پر حملے میں پی ایف آئی کے کچھ کارکن ملوث تھے لیکن ان کے مطابق یہ’مقامی واقعہ’ تھا، جس کے فوراً بعد ‘پی ایف آئی کی اس وقت کی اعلیٰ قیادت نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس کر کے واضح کر دیا تھا کہ تنظیم کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ابھیمنیو قتل کیس کے بارے میں پوچھے جانے پر سیدھا جواب دینے کے بجائے انیس نے آر ایس ایس کا حوالہ دیا۔ وہ کہتے ہیں، ‘کیرالہ میں بائیں بازو کے 240 کارکنوں کے قتل میں آر ایس ایس کے لوگوں کا نام لیا جاتا ہے، اسی طرح آر ایس ایس_بی جے پی کے کارکنوں کے قتل میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لوگ ملوث ہیں، لیکن ان تنظیموں کو مجرم نہیں کہا جاتا۔ لیکن اگر کسی مقامی معاملے میں بھی پاپولر فرنٹ کا نام آتا ہے تو پوری پی ایف آئی ایک مجرمانہ تنظیم بن جاتی ہے۔ ترنمول کانگریس، بائیں بازو یا دیگر جماعتوں کے ساتھ یہی پیمانہ نہیں اپنایا جاتا۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی طرح پی ایف آئی کو مجرم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔


پی ایف آئی ارکان پر سنگین الزامات:کیرالہ میں جو سیاسی تشدد ہو رہا ہے، چاہے وہ آر ایس ایس کے کارکنوں کے ساتھ ہو یا بائیں بازو کے کیڈر کے ساتھ، پی ایف آئی کا نام بھی پولس یا دیگر تنظیموں کی جانب سے سامنے آتا رہا ہے۔
پی ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ تشدد کے واقعے میں ملوث پائے جانے والے اپنے کارکنوں کو فوری طور پر نکال دیتی ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پی ایف آئی نے کچھ ایسے لوگوں کی جانب سے مقدمہ لڑا جو جرائم میں ملوث تھے جیسا کہ پروفیسر جوزف کے واقعے میں ملوث افراد کا مقدمہ لڑا گیا تھا۔اس سوال پر پی ایف آئی کے جنرل سکریٹری کہتے ہیں’نہیں، ہم ان مقدمات کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں جن کی ہم قانونی طور پر وکالت کرتے ہیں۔ ہم نے پروفیسر کے کیس میں کوئی مقدمہ نہیں لڑا۔
اسلحہ کی تربیت کا سوال:این آئی اے کی ایک عدالت نے اس معاملے میں پی ایف آئی اور اس کے سیاسی ونگ ایس ڈی پی آئی یعنی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے بیس سے زیادہ کارکنوں کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔پی ایف آئی نے نارتھ کیمپ کو یوگا ٹریننگ کیمپ کہا لیکن عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یوگا کیمپ میں ہتھیاروں کا کیا کام ہے؟2007 میں قائم ہونے والی تنظیم مسلح تربیت کے الزام کی تردید کرتی ہے اور اس کے مطابق ‘یوگا ایک انڈین علم ہے جس میں ہندوتوا تنظیمیں مذہبیت کی آمیزش کرکے اسے نیا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں’۔

فریزر ٹاؤن میں پی ایف آئی کی پبلسٹی برانچ میں سفید قمیض اور چیک والی نہرو جیکٹ پہنے انیس احمد پہلی نظر میں کسی کارپوریٹ ہاؤس کے اہلکار لگ رہے تھے، نہ کہ کسی مسلم تنظم کے جنرل سکریٹری۔ اصل میں گووا سے تعلق رکھنے والے انیس احمد پیشے سے سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔پی ایف آئی خود کو ایک ‘سماجی تحریک کے طور پر بھی پیش کرتی ہے، اس کی ویب سائٹ یا اشاعتیں کسی خاص کمیونیٹی سے وابستگی نہیں دکھاتی ہیں۔ تنظیم ایک بین مذاہب معاشرے کے بارے میں بات کرتی ہے جس میں ہر کسی کو آزادی، انصاف اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔

دیگر مذاہب میں شادی کے بارے میں رائے
ہم نے پی ایف آئی کے یوتھ جنرل سکریٹری سے پوچھا کہ جیسا کہ وہ ایک ہندو لڑکی کے اپنی پسند کے مسلمان لڑکے سے شادی کرنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں، کیا وہ ایک مسلمان لڑکی کی ہندو نوجوان سے شادی کی حمایت کریں گے یا اس کے خلاف کھڑے ہوں گے؟اس کے جواب میں، وہ کہتے ہیں، ‘مذہبی آزادی انڈیا میں ایک آئینی حق ہے۔ انڈیا میں ہر شخص کو اپنی پسند اور مرضی سے کسی بھی مذہب کے لڑکے یا لڑکی سے شادی کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اس کی تشہیر کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ اس میں پی ایف آئی کی حمایت یا مخالفت ضروری نہیں ہے۔ ہم نے کبھی بھی کسی کے بھی آئینی حقوق کی کسی بھی طرح سے مخالفت نہیں کی۔گھنٹے بھر کی گفتگو میں بی بی سی کی جانب سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ مسلمانوں کے مفادات کی بات کرنے والی تنظیمیں جن میں کیرالہ کی انڈین یونین مسلم لیگ سے لے کر اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور اتر پردیش کی ویلفیئر پارٹی شامل ہے لیکن تمام طرح کی سرگرمیوں میں پی ایف آئی کا نام ہی بار بار کیوں آتا ہے۔انیس احمد کے مطابق اس کی وجہ ان کے کام کرنے کا انداز ہے۔ وہ کہتے ہیں، ‘ہم جارحانہ نہیں ہیں لیکن ہمارا طریقہ پُرزور ہے۔ اپنے حقوق کے احترام کا مطالبہ کرنے والا مسلم معاشرہ، آر ایس ایس کی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتا، وہ ایک محکوم مسلم معاشرہ چاہتے ہیں۔ اس لیے پی ایف آئی کو ختم کرنا اِس حکومت کا اہم ایجنڈا ہے۔ یہ ایک قسم کا طریقہ کار ہے کہ ملک میں کہیں کچھ بھی ہو جائے اس میں پی ایف آئی کا نام ڈال دیا جائے۔‘