والد نے زندگی بھر مزدوری کی۔ ماں کبھی اسکول نہیں گئی۔ بیٹا جیسے تیسے کر کے سرکاری اسکول میں پڑھا اور میکینیکل انجینئر بن کر دھمال کر رہا ہے۔ اس کہانی میں گاؤں ہے، غریبی ہے، صلاحیت ہے، محنت ہے اور اظہرالدین ہے۔عالم یہ ہے کہ میرٹھ کے پاس مراد نگر کے رہنے والے بی ٹیک کے دوسرے سال کے طالب علم کے ’کھوجی‘ دماغ کو دیکھتے ہوئے اب اس سے کالج فیس لیتا ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس اسے مینجمنٹ سبھی سہولیات دستیاب کراتا ہے۔ یہ کہانی مثال ہے کہ اگر قابلیت ہو تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ ہر راستہ کھل جاتا ہے۔ اظہرالدین نے کباڑ کو جمع کیے سامان سے الیکٹرک کارٹ بنا کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ اب اسے آن لائن بیرون ممالک سے بھی آرڈر مل رہے ہیں۔

 

الیکٹرک کارٹ کے علاوہ 21 سالہ اظہرالدین نے ایک بار چارج کرنے پر 100 کلو میٹر دوری طے کرنے والی الیکٹرک سائیکل یعنی ای-سائیکل بھی بنائی ہے۔ اتنا ہی نہیں، ایک سولر کارٹ بھی اظہرالدین کی ایجادات میں شامل ہے جسے چارج کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ کمال اظہرالدین نے تنہا کیا ہے جب کہ مختلف کمپنیوں میں اسی کام پر ریسرچ کرنے کے لیے انجینئروں کی پوری ٹیم لگی رہتی ہے۔

 

سب سے خاص بات یہ ہے کہ اظہرالدین کے والد امیرالدین ایک مزدور ہیں اور پوری زندگی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ بیٹے کی اس کامیابی پر وہ کہتے ہیں ’’بہت اچھا ہے، اب گاؤں میں لوگ مجھے میرے بیٹے کی وجہ سے جانتے ہیں۔ اب زیادہ عزت دیتے ہیں۔‘‘اظہرالدین میرٹھ کے سبھارتی یونیورسٹی میں بی ٹیک میکینیکل میں دوسرے سال کے طالب علم ہیں۔ اب وہ اپنی ای کارٹ کو حکومت سے ویریفکیشن کرانے میں مصروف ہیں، جس کے لیے انھیں کافی پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔ اظہرالدین بتاتے ہیں کہ ان کی بنائی ای کارٹ بنیادی طور پر سولر ہے، لیکن اسے چارج بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ماحولیات کو بہت فائدہ ہوگا۔ اظہرالدین کہتے ہیں کہ ’’یہ سستی ہے اور زیادہ مضبوط ہے۔ اس کا آٹو کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال اس کی طلب بڑے سائز والی سوسائٹی سے آ رہی ہے جہاں بغیر آلودگی والے ان کارٹ کی بہت اہمیت ہے۔ اس کے علاوہ چڑیا گھر، تاج محل جیسی جگہ پر بھی ان کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ اب تک ایسی کارٹ بیٹری سے چل رہی ہے۔ ہم سولر اور بجلی کا سستا متبادل لائے ہیں۔‘‘

اظہرالدین کی اس کوشش کو کافی تعریف حاصل ہو رہی ہے۔ انھیں حیدر آباد کی ایک سوسائٹی سے 6 سولر کارٹ کا آرڈر ملا ہے۔ اظہر نے پہلی ای کارٹ صرف ڈیڑھ لاکھ روپے میں تیار کر دی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں کباڑ کا استعمال ہوا تھا۔ اب اظہرالدین نے اسے مزید بہتر کیا ہے، جس میں زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ ان کی بنائی ہوئی ای کارٹ دبئی میں بھیجی جا چکی ہے۔ اظہر بتاتے ہیں کہ حکومت تعاون کرتی ہے تو وہ بہت بڑا کچھ کر دیں گے اور ملک میں آلودگی کم کرنے اور ماحولیات کو بہتر بنانے میں تعاون پیش کریں گے۔

 

اظہرالدین کا کہنا ہےکہ انھوں نے ایک ای سائیکل بنائی ہے جو ایک بار میں چارج ہو کر 100 کلو میٹر چل سکتی ہے، جب کہ کئی بڑی کمپنیوں کی سائیکل 40-30 کلو میٹر چلتی ہے۔ یہ 30-25 کلو میٹر فی گھنٹہ کی اسپیڈ سے چلے گی اور یقینی طور پر آلودگی سے پاک ہوگی۔ اظہرالدین کو ابھی سے اس کے لیے آرڈر ملنے لگے ہیں۔ قابل ذکر یہ بھی ہے کہ اظہرالدین کی ای کارٹ کو 6 مہینے تک آگرہ کے تاج محل میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ اظہر بتاتے ہیں کہ انھوں نے گیارہویں میں ایک ’وَن سیٹر ہیلی کاپٹر‘ بنایا تھا جسے غازی آباد کی نمائش میں کافی پسند کیا گیا تھا۔ اب اظہرالدین کی ای کارٹ کو ہریانہ کے ہسار کینٹ اور انجینئرنگ کالج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے اپنے کالج سبھارتی میرٹھ میں بھی ان کی ہی بنائی ہوئی گاڑی دوڑتی نظر آتی ہے۔اظہرالدین کا کہنا ہے کہ سولر انرجی کے رخنہ انداز ہونے کی صورت میں بھی ان کی بنائی ای کارٹ دوڑتی رہے گی، تب اس کا کام چارجنگ سے ہوگا۔ حالانکہ سولر پینل میں 12 وولٹ کی دو اور 140 ایمپیر لیڈ ایسڈ کی پانچ بیٹری استعمال میں لائی گئی ہے۔ دراصل یہی اس ای کارٹ کی سب سے بڑی خاصیت ہے کہ یہ سولر اور بجلی دونوں سے چلتی ہے اور ساتھ ہی سستی بھی ہے۔سبھارتی یونیورسٹی میں اظہرالدین کو لے کر کافی جوش ہے۔ سنجے کمار بتاتے ہیں کہ اظہرالدین کی صلاحیت قدرتی ہے۔ اس کے اندر کا پیدائشی ٹیلنٹ انھیں بہت زیادہ آگے لے کر جانے والا ہے۔ اس نے اپنے دَم پر اور اپنے کام سے نام کمایا ہے۔ ہم اس کے روشن مستقبل کے لیے دعا کرتے ہیں۔ وہ بہت بہتر کر رہا ہے۔ اب اس کا مشکل وقت گزر گیا ہے۔ ہم اس کا مکمل تعاون کرنے جا رہے ہیں۔