• 425
    Shares

مقبوضہ بیت المقدس ۔ اسرائیلی بلدیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں میں مزید 2200 مکانات کی تعمیر کا منصوبہ تیار کرلیا۔ عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ منصوبے کو جلد ہی اسرائیلی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا،جس کے بعد یہودی کالونیوں میں تعمیرات کا آغاز کردیا جائے گا۔ اس منصوبے میں شامل مکانات غرب اردن کے تمام علاقوں میں موجود کالونیوں اور الگ تھلگ مقامات میں بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ ادھر اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹس نے غرب اردن کے سیکٹر ’سی‘ میں یہودیوں کے لیے ایک ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ واضح رہے کہ نئی اسرائیلی حکومت اور وزیراعظم نفتالی بینیت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ یہودی آباد کاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب شیخ عکرمہ صبری نے امریکی انٹیلی جنس کے وفد کی مسجد اقصیٰ میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کا صہیونی فوج کی سیکورٹی میں مسجد اقصیٰ کا دورہ صہیونی جرائم کی تائید کے مترادف ہے۔ امریکی وفد نے اپنے دورے کے دوران مسجد اقصی کے بجائے جبل ہیکل کے الفاظ استعمال کیے،جس سے مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال ہوا۔ واشنگٹن کے عہدے داروں کے دورے سے مقامی یہود کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں اور وہ ڈھٹائی سے حرم قدسی کی بے حرمتی کررہے ہیں۔ ادھر امریکی ریاست لاس اینجلس میں اساتذہ کی تنظیم نے آئندہ ماہ اسرائیلی بائیکاٹ کی مہم کا اعلان کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اساتذہ کی تنظیم آئندہ ماہ ایک قرارداد پر رائے شماری کرے گی، جس کا مقصد اسرائیلی بائیکاٹ کرنے کے لیے بی ڈی ایس مہم کی حمایت کرنا ہے۔ لاس اینجلس کی ٹیچر یونین نے اپنے بیان میں اسرائیل کو نسل پرست ریاست قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاری کے منصوبے واپس لینے اور اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں