جے پور، 30مارچ (یواین آئی) راجستھان میں جے پورڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے سپیلر سیل سے متعلق معاملے میں ملزمین کوآج قصوروار قرار دیتے ہوئے 12لوگوں کوعمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ایک ملزم کوبری کردیا۔

جج اوماشنکر ویاس نے آج یہ فیصلہ سناتے ہوئے 2014میں گرفتار سیمی کے راجستھان سلیپر سیل سے منسلک اس معاملے میں 13لوگوں میں سے 12کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں قصوروار قرار دیا گیا جبکہ ایک کو اس معاملہ میں بری کردیا۔ اس کے بعد ان 12قصورواروں کو عمرقیدکی سزا سنائی گئی۔عدالت نے غداری اور دھماکہ خیز مادہ رکھنے وغیرہ کے الزام میں انہیں قصوروار مانا اور سزا سنائی گئی۔جن لوگوں کو سزا سنائی گئی ان میں عبدالمجید، محمد واحد، محمد عمر، محمد عاقب، محمد وقار، محمد عمار، برکت علی، مشرف اقبال، محمد معروف، اشرف علی محمد ثاقاب انصاری، وقار اظہر اور محمد سجاد شامل ہیں جبکہ جودھپور کے رہنے والے ملزم اقبال کو بری کردیا گیا۔

ان میں ایک بہار کا رہنے والا ہے جبکہ باقی تمام راجستھان کے رہنے والے ہیں۔ سرکاری گواہ بنے سجاد کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔اے ٹی ایس اور ایس او جی نے اس معاملہ میں 177 گواہوں کے بیان کرائے گئے اور 506 دستاویز پیش کئے گئے۔ خیال رہے کہ راجستھان میں سیمی کے سلیپر سیل سے جڑا یہ معاملہ تقریباً سات سال پرانا ہے۔ دہلی میں گرفتار ہوئے دہشت گردوں سے موصولہ اطلاع کی بنیاد پر ریاست میں اے ٹی ایس اور ایس او جی کی ٹیموں نے 2014میں جے پور، سیکر اور دیگراضلاع میں 13مشتبہ نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر28مارچ 2014میں معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ یہ ممنوعہ تنظیم سیمی سے منسلک ہیں اور راجستھان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے بم بنانے وغیرہ سرگرمیوں میں شامل تھے۔