"غافل تجھے گھڑ یال یہ دیتا ہے منادی گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی”

0 244

سال 2018 اپنے آخری لمحات جی رہا ہے .لیجیۓ صاحب اب کچھ ھی گھنٹوں بعد شروع ہوگا new year celebration . ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوگا ،شراب پانی کے طرح بہے گی ،جشن کے نام پر فحاشی اور عریانیت کے وہ اخلاق سوز اور شرمناک

مظاہرے ہوں گے جن پر شاید ابلیس بھی شرمسار ہو جائے .

افسوس تو اس بات کا ہے کے آج مسلمان بھی اس لعنت اور فعلِ قبیح میں مبتلا ہیں ،خاص طور پر ہمارا نوجوان طبقہ .

آخر یہ new year night یا جشن سال نو ہے کیا بلا ؟ آئیے دیکھتے ہیں .

جشنِ سال نو کی ابتدا و تاریخ :

قبل مسیح سلطنت روما میں "julian” کیلنڈر رائج تھا اس کیلنڈر میں سال کا پہلا دن منسوب تھا "janus ” نامی رومی دیوتا سےجو رومیوں کے نزدیک دیوتا تھا "نئی شروعات "کا اور اسی دیوتا کے نام پر مہینے کا نام پڑا January. اس دن اس دیوتا کے پوجا کی جاتی تھی اور سال کے پہلے دن کو رومیوں کے نزدیک مذھبی تقدس کا درجہ حاصل تھا ( بحوالہ : وکی پیڈیا ).

پھر بعدِ مسیح جب Gregorian کیلنڈر رائج ہوا تب عیسائ 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰؑ کے یوم ولادت اور 1جنوری آپؑ کے یوم عقیقه کی یادگار کے طور پر ایک مذہبی تہوار کی شکل میں منانے لگے اور اس دن چرچ میں مخصوص مذہبی رسوم اوردعائیں کی جاتی تھیں جو آج بھی کی جاتی ہیں، یعنی یہ دن عیسائیوں کے نزدیک مذھبی تقدس کا حامل ہے .

دورحاضر میں 1 جنوری 1600 عیسوی سن میں اسکاٹ لینڈ میں پہلی مرتبہ باقاعدہ، منظم اور بڑے پیمانے پر جشن سال نو منانے کا اھتمام کیا گیا جس کی چکا چوند اور بے حیائی کو ملنے والے وسیع تر مواقع دیکھ کر ہوس پرستوں اور نفس پرستوں کے درمیان اس رسم نے مقبولیت حاصل کر لی اور دیکھتے ھی دیکھتے دنیا بھر میں اس رسم کا اھتمام کیا جانے لگا . اور آج یہ دن جس پیمانے پر منایا جاتا ہے ، اس سے ھم بخوبی واقف ہیں .

جشنِ سال نو اور مسلمان :

انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ اور مغربیت کی اندھا دھند تقلید کے مارے کچھ مسلمان بھی اس دن کو ویسے ھی منانے لگے ہیں اورجشن کے نام پر رائج تمام خرافات کو بڑی دل چسپی و دل جمعی سے ادا بھی کرنے لگے ہیں .

جشنِ سال نو ایک مذھبی تہوار ہے جس سے رومیوں اور عیسائیوں کے مذھبی عقائد جڑے ہیں، اب جس دن یا جس تهوار کے ساتھ اس طرح کے کفریہ اور شرکیہ عقائد وابستہ ہوں کیا ایک مسلمان کے لیے ان میں کسی بھی طرح کی شرکت قابل قبول ہونی چاہیے ؟ (واضح رہے کے عیسائی نظریہ تثلیث کے حامل ہیں وہ عیسیٰ ؑ کو اللّه کا بیٹا اور خدا مانتے ہیں اور ساتھ ھی مریمؑ کو بھی خدا مانتے ہیں نعوذ با اللہ).

کیا میرے اور آپکے آقا جناب محمدؐ نے ہمیں غیروں کی مشابہت سے منع نہیں کیا ؟ اور پھر یہاں تو معاملہ عقائد سے جڑا ہوا ہے .تو کیاپھر ھم "من تشبہ بقوم فہو منھم "(جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے : ابو داؤد ) کی زد میں نہیں آرہے ہیں ؟ دنیا ترقی کے نام پر چاہے جو کر لے کیا ہمارے لیے حرف آخر صرف اللّه کا کلام اور جناب محمدؐ کا اسوہ کاملہ نہیں ہے ؟

اسلامی نیا سال یعنی ھجری کیلنڈر محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے کیا ہمیں کہیں بھی یہ ثبوت ملتا ہے کے آپؐ نے یا آپؐ کے کسی صحابی نے، یا کسی تا بعی نے ،کسی تبع تابعی نے ، کسی امام نے ، کبھی نئے سال کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دی ہو یا نیک خواہشات کا اظھار کیا ہو ؟ اسلامی سال کی آمد پر ان چیزوں کا وجود ثابت نہیں ہوتا چہ جائیکہ ایک غیر اسلامی اور کفریہ عقائد پر مبنی دن کی مبارک باد دی جائے اور اسے خوشی یا جشن کے دن کے طور پر منایا جائے؟

رات اور دن کا چکّر ،مہینے اور سال کی گردش ،اللّه نے صرف وقت کے تعین کے لیے پیدا کی ہے اسلام میں کسی خاص دن کی کوئی اہمیت ہے نا حیثیت، سواے ان دنوں کے جن کی اہمیت اور فضیلت خود اللّه اور اس کے رسولؐ نے بیان کر دی ہو .

رہی بات ان کی جو یہ کہتے ہیں کے اس بہانے ھم اس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ ھم نے پچھلے سال جو غلط کیا ہے اس کو نا کرنے کا عہد کرتے ہیں اور آئندہ کے لئے اچھے کام کرنے کا عزم کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ . تو جناب عالی نئے سال کی آمد پر اس طرح کا تجزیہ اور محاسبہ کرنے کی تعلیم تو ہمیں اسلام میں کہیں بھی نہیں ملتی ، اور نا سیرت محمدیؐ سے ملتی ہے .

بلکہ ہمارے لیے تو اللّه کے نبیؐ کا یہ فرمان ھی کافی ہے کہ ، "عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری (عمل )کرے "(ابن ماجہ).

اور پھر اللّه کے نبیؐ کا یہ فرمان ”حَاسِبُوْا أنْفُسَکُمْ قَبْلَ أنْ تُحَاسَبُوْا“۔

” تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کيا جائے” (ترمذی)

تو یہ محا سبہ تو ہمیں زندگی کے ہر سیکنڈ اور ھر لمحہ کرنے کی ضرورت ہے (نا کے 31st دسمبر یا سال نو کے موقع پر )تاکہ جب بھی ہمیں موت آے بحیثیت مومن اور مسلم آئے اور ہمارا خاتمہ اسلام اور ایمان پر ہو کیونکہ ہمارا ایمان ہم سے اسی بات کا متقاضی ہے اور ہمارا دین ھم سے اسی ایمان کا مطا لبہ کرتا ہے .

اللّه ھم سب کو ان خرافات سے دور رکھے ، ھم سب کو اسلام پر زندہ رکھے اور اسلام پر موت دے .(آمین )

تحریر : عبدالکریم (اشعر کریم )

اردھاپور ،

ضلع ناندیڑ (مہاراشٹرا)

Mob: 8983362545

Email: abkarim792@gmail.com