غازی آباد: غازی پور بارڈر پر زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک لگاتار جاری ہے اور دہلی پولیس کی جانب سے کسانوں کو کسی بھی طرح راجدھانی دہلی میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے تمام طرح کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا، منگل کے روز شیو سینا کے ترجمان اور رکن راجیہ سبھا سنجے راؤت غازی پور بارڈر پہنچے اور غازی پور بارڈر پر جاری کسان تحریک کی قیادت کر رہے بھاریتہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت سے ملاقات کی۔

سنجے راؤت نے کہا کہ شیو سینا روز اول سے ہی زرعی قوانین کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے خصوصی طور پر مجھے غازی پور بارڈر پر چل رہی تحریک میں بھیجا ہے۔ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے میرے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ شیو سینا اور حکومت مہاراشٹر پوری طرح کسانوں کی حمایت میں ہے۔‘‘

سنجے راؤت نے مزید کہا کہ شیو سینا کے سربراہ راکیش ٹکیت سے بذات خود بھی بات چیت کریں گے، یہ تحریک سڑک کی ہے اور سڑک پر ہی چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غازی پور بارڈر پر کسان مظاہرین کو کچلنے کی کوشش کی گئی، ایسے حالات میں مہاراشٹر کے لوگوں کا فرض ہے کہ راکیش ٹکیت کے ساتھ کھڑے ہوں۔

سنجے راؤت نے کہا کہ ملک کے ہر شہر کا یہ فرض ہے کہ وہ تحریک میں شرکت کریں اور کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا ’’مہاراشٹر سے ہزاروں کی تعداد میں کسان غازی پور بارڈر پر تحریک میں شامل ہیں۔ کسان تنظیموں نے تین گھنٹے کے لئے ملک گیر چکہ جام کا اعلان کیا ہے۔ اس کی بھی شیو سینا پوری طرح حمایت کرتی ہے۔’’