غازی آباد۔ بی کے یو کے بموجب مہاتما گاندھی کی پڑ پوتری تارا گاندھی بھٹاچارجی ہفتہ کے روزدہلی اترپردیش سرحد کے غازی پور پہنچی تاکہ مرکز کے خطرناک زراعی قوانین کے خلاف کسانوں کے جاری احتجاج کی حمایت کرسکیں۔

مذکورہ 84سالہ بھٹاچارجی جو نیشنل گاندھی میوزیم کی چیر پرسن بھی ہیں نے کسانوں سے کہا وہ اپنے احتجاج کو پرامن رکھیں اور حکومت پر زوردیا کہ وہ زراعت کرنے والے سماج کا خیال رکھیں۔

ان کے ہمراہ گاندھی سمارک نیدھی چیرمن رام چندرا راہی‘ ال انڈیا سارو سیو ا سنگھا مینجنگ ٹرسٹی اشوک ساران‘ گاندھی سمارک نیدھی ڈائرکٹر سنجے سنگھا اور نیشنل گاندھی میوزیم ڈائرکٹر اناملائی بھی موجود تھے۔

بھارتیہ کسان یونین جو کسانوں کے احتجا ج کی قیادت کررہا ہے کہ بموجب بھٹاچارجی نے کہاکہ ہم یہاں پر کسی سیاسی پروگرام کے حصہ کے طور پر نہیں ائے ہیں۔ ہم یہاں پر آج کسانوں کے لئے ائے ہیں‘ جو ہمیں سارے زندگی کھانا فراہم کرتے ہیں۔

نومبر سے غازی سرحد پر زراعی قوانین سے دستبرداری کی مانگ کرتے ہوئے احتجاج پر بیٹھے ہوئے کسانوں کی جانب سے انہیں جو بتایاگیاہے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم یہاں پر آپ تمام کی وجہہ سے ہیں۔

کسانوں کے مفاد میں ملک اور ہمارا فائدہ ہے‘اور ایک نیا قانون بنائے جس میں ایم ایس پی کی فصلوں پر ضمانت دی جاسکے۔انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہاکہ 1857میں برطانوی حکومت کے خلاف پہلی جنگ آزادی ویسٹرن اترپردیش کے میرٹھ س ہوئی تھی۔

بی کے یو کے میڈیا انچارج دھرمیندر ملک کی جانب سے جاری کردہ بیان کے بموجب بھٹاچارجی احتجاج کے مقام پر کسانوں کے واسطے دعا ء کرنے کے لئے بھی ائی تھیں۔

چاہے کچھ بھی ہوجائے میں چاہتی ہوں کسانوں کا فائدہ ہو۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کسانوں کی سخت محنت سے ہر کوئی واقف ہے اور یہ بات دہرائی نہیں جانی چاہئے کہ کسانوں کے مفادات میں ملک کا فائدہ ہے او رہم سب کا فائدہ ہے۔

مرکزی حکومت کے تین نئے زراعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں سنگھو‘ تکری اور غازی پور پر نومبر سے کسان احتجاج کررہے ہیں۔

کسانوں کا دعوی ہے کہ نئے قوانین ایم ایس پی کو تباہ کردیں گے اور ان کی زندگیاں برباد ہوجائیں گے جبکہ حکومت اس کو موافق کسان بتارہی ہے۔ گیارہ دور کی بات چیت کے بعد کسانوں اور حکومت کے درمیان میں تعطل بنا ہوا ہے


اپنی رائے یہاں لکھیں