غازی آباد واقع لونی علاقہ میں بزرگ عبدالصمد کی پٹائی کے وائرل ویڈیو سے مذہبی منافرت والا جو پیغام عام ہوا تھا، اب اس میں تعویذ-گنڈوں اور رنجش کی بات ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ غازی آباد پولیس نے پہلے ہی اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس ویڈیو کے ذریعہ مذہبی اینگل دینے کی کوشش کی گئی ہے، جب کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ اب اس واقعہ کے ایک اہم ملزم پرویش گوجر کا بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ کافی غصے میں تھا کیونکہ اسے لگتا تھا کہ عبدالصمد کے ذریعہ دی گئی تعویذ کی وجہ سے ہی اس کی بیوی کے حمل میں پرورش پا رہے چھ مہینے کے بچہ کی موت ہو گئی۔

یو پی پولیس کے تحقیقاتی افسر نے جمعہ کے روز ڈاسنا جیل میں بند پرویش گوجر کا بیان درج کیا جس میں اس نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ وہ بہت غصے میں تھا اور اسی لیے بزرگ شخص کی پٹائی کی۔ بزرگ کی داڑھی کاٹے جانے سے متعلق پرویش نے بتایا کہ یہ کام کلّو نے کیا تھا کیونکہ وہ بھی بہت غصے میں تھا۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا تھا اس وقت وہاں پر کئی لوگ موجود تھے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ پرویش گوجر رنگداری کے ایک دیگر معاملے میں ڈاسنا جیل میں بند ہے اس لیے اس سے جیل میں ہی پوچھ تاچھ کی گئی۔ بیان درج کرنے کے بعد اب پولیس پرویش کو ریمانڈ میں لینے کی تیاری کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس پورے معاملے میں ایک دن قبل پولیس نے چار مزید ملزمین کو گرفتار کیا تھا۔ جمعہ کو ان سبھی کو پولیس نے عدات کے سامنے پیش کیا، حالانکہ عدالت نے چاروں کو ضمانت دے دی ہے۔ ابھی تک اس معاملے میں مجموعی طور پر 9 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے 8 کو ضمانت مل چکی ہے