غازی آباد:(بی بی سی کی خصوصی رپورٹ)انڈیا کی ریاست اترپردیش میں کانگریس کے تین رہنماؤں سمیت، واشنگٹن پوسٹ کی نمائندہ رانا ایوب کے علاوہ ٹوئٹر اور دی وائر نامی ویب سائٹ کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے اور مجرمانہ سازش کرنے کے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ریاست کی پولیس کی طرف سے منگل کو رات گئے سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر میں مجموعی طور پر چھ افراد کے علاوہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر اور دی وائر نامی ویب سائٹ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں نامزد افراد میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے تین مسلمان ارکان سلمان نظامی، مشکور عثمانی اور ڈاکٹر شمع محمد کے علاوہ گجرات کے فسادات پر کتاب کی مصنفہ اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی نمائندہ رانا ایوب، فیکٹ چیک نامی ویب سائٹ کے شریک بانی محمد زبیر اور صبا نقوی شامل ہیں۔اترپردیش کے علاقے غازی آباد میں کچھ دن قبل ایک بزرگ شہری عبدالصمد کو چند افراد نے گھیر کر ان کو مبینہ طور پر جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے کے علاوہ ان پر تشدد کیا اور زبردستی ان کی دھاڑی مونڈھ دی تھی۔

اس واقعے کی ویڈیو ٹوئٹر پر اپ لوڈ ہوئی اور اس کو نیوز ویب سائٹ ’دی وائر‘ نے بھی شائع کیا تھا۔
پولیس نے ٹوئٹر اور دی وائر کے علاوہ چھ سرکردہ مسلمان شخصیات جنھوں نے یہ ویڈیو شیئر کی تھی ان پر بھی فرقوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور مجرمانہ سازش کرنے جیسے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ عبدالصمد کے ساتھ تشدد نفرت انگیز جرم نہیں تھا بلکہ ایک ذاتی دشمنی کا معاملہ تھا اور ملزم اور متاثرہ شخص ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے، لیکن جن لوگوں نے اس واقع کی ویڈیو شیئر کی انھوں نے حقیقت جانے بغیر اسے فرقہ پرستی کا رنگ دے دیا۔پولیس متاثرہ شخص کی ایف آئی آر کی بنیاد پر اب تک کم از کم پانچ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ گزشتہ روز منگل کو ایک بیان میں پولیس نے کہا تھا کہ ملزمان کے ’بقول عبدالصمد تعویز بنانے کا کام کرتے ہیں، اور ان کے دیے ہوئے تعویز سے ان کے پرویوار (خاندان) پر الٹا اثر ہوا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے یہ کارروائی کی۔‘

عبدالصمد کے بیٹے ببو سیفی نے پولیس کے دعوے کی تردید کی ہے۔ انھوں نے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کو بتایا کہ ان کا کنبہ کئی نسلوں سے بڑھئی کا کام کرتا ہے اور تعویز یا جادو سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے کہا ’پولیس کی پوری کہانی جھوٹی ہے۔ ہمارا جادو یا تعویز سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پولیس کا یہ بیان بھی غلط ہے کہ اس حملے میں مسلمان ملوث تھے۔ داڑھی ایک مسلم کی شناخت ہے اور کوئی بھی مسلمان اسے زبردستی نہیں کاٹے گا۔‘ملزمان میں سے ایک، محمد عادل، کے چھوٹے بھائی محمد ساجد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کے بڑے بھائی وہاں بزرگ کی مدد کے لیے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس معاملے کو ایک سیاسی رنگ دے دیا گیا ہے، اور کچھ نہیں ہے۔‘

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گرفتار ہونے والے سارے مسلمانوں پر جھوٹا الزام ہے۔فیکٹ چیک نامی ویب سائٹ کے شریک بانی محمد زبیر احمد کی جانب سے شیئر کی گئی تشدد کی ویڈیو میں بزرگ کے ساتھ زیادتی ہوتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔ انھوں نے اب یہ ویڈیو ہٹا دی ہے اور اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’پولیس حکام اور دیگر صحافیوں کے ساتھ میری گفتگو کے مطابق متاثرہ شخص کو جئے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیے جانے کی بات کی اس موقع پر پوری طرح تصدیق نہیں ہو رہی ہے۔‘

حالانکہ زبیر احمد اور دیگر افراد کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں متاثرہ فرد کی داڑھی کاٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس میں آواز نہیں سنی جا سکتی ہے۔ تاہم ایک دوسری ویڈیو میں، جسے زبیر احمد اور دیگر لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا، متاثرہ شخص کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اسے مارا پیٹا گیا اور ’جئے شری رام‘ بولنے پر مجبور کیا گیا۔تاہم نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ شخص نے اپنی ایف آئی آر میں اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ ان کی داڑھی کاٹی گئی یا انھیں جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا تھا۔

صحافی رانا ایوب نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیا ہے۔ انھوں نے وضاحت کی ہے کہ ’اس معاملے کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کے دعوے کے پیش نظر میں جلد سے جلد حق کے غالب ہونے کا انتظار کروں گی۔‘اگرچہ دائیں بازو کے ٹوئٹر اکاؤنٹس نے ان افراد کے خلاف ٹوئٹر پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، متعدد صحافیوں نے پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر پر بھی تنقید کی ہے۔قانونی معاملات سے منسلک ویب سائٹ ’لائیو لا‘ کے منیجنگ ایڈیٹر منو سبطین نے پوچھا کہ متاثرہ شخص کے دعوے کی خبر مین سٹریم ذرائع ابلاغ میں بہت سے لوگوں نے دی ہے جیسے کہ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی، ٹائمز ناؤ، این ڈی ٹی وی، انڈین ایکسپریس، دی پرنٹ، فرسٹ پوسٹ، وغیرہ۔ ‘کیا وہ ذمہ دار ہیں؟ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ ایف آئی آر میں شامل افراد نے ایسا کیا مختلف کیا؟‘صحافی شعیب دانیال نے لکھا کہ اب تو فرقہ وارانہ حملے کے الزامات کی رپورٹنگ پر بھی انڈین حکومت سے سزا مل سکتی ہے۔

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ ابھی اسے اس معاملے کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہوئی ہیں۔ کمپنی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ٹوئٹر جرائم سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کرتا ہے۔ ابھی ہمیں اس کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوئی ہیں۔‘دی وائر نے پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کی مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں دی وائر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’وائر یوپی پولیس کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے متعدد اداروں کی طرف سے عبدالصمد کے اپنے بیان پر مبنی درست اور صحیح خبر اور ٹویٹ کے خلاف ایک مجرمانہ مقدمہ کے اندراج کی مذمت کرتا ہے۔ادارے کے مطابق ’ایف آئی آر واقعات کے سرکاری ورژن کے علاوہ دوسرے پہلؤں پر رپورٹنگ کو مجرمانہ قرار دینے کی ایک کوشش ہے۔’