مذکورہ تینوں عینی شاہدین نے کہاکہ وہ اس وقت فرقان سے 20فٹ کی دوری پر تھے جب ایس ائی نے گولی ماری اور اس کو ہلاک کردیاتھا۔
تین عینی شاہدین نے دہلی کے اوکھلا پولیس اسٹیشن کے ایک سب انسپکٹر ہرویر سنگھ بھٹی پر نارتھ ایسٹ دہلی میں فبروری2020کو پیش ائے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران قتل کا مورد الزام ٹہرایاہے‘ یہ ْخبر دی کاروان نے دی ہے۔نارتھ ایسٹ دہلی میں غیر معمولی صورتحا کے دوران کاردم پوری کے احتجاج کے مقام پر 24فبروری2020کے روز محمد فرقان نامی ایک مقامی شخص پر گولی چلانے اور اس کو جان سے مارنے کا کاردم پوری علاقے کے متوطین رخسانہ خاتون‘ ملکا اور شہناز الزام لگایاہے۔

فرقان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ دائیں را ن او رپیٹ کے نچلے حصہ میں دوگولیں لگیں فرقان کو لگی تھیں۔

کاردم پوری نارتھ ایسٹ دہلی کا مسلم اکثریت والا علاقہ ہے اور وہاں پر پچھلے سال فبروری میں بڑے پیمانے پر فرقہ واران فسادات رونما ہوئے تھے جو موج پور‘ گوکل پور‘ کاردم پوری میں پیش ائے تھے‘ کاردم پوری یمونا وہار کے پڑوس والے ہندو اکثریتی علاقے کے مقابل کا علاقے ہے۔

مخالف سی اے اے‘ این آر سی ملک بھر میں احتجاج کے دوران‘ کاردم پورے کے فٹ اور برج کے قریب میں ایک احتجاجی دھرنا منظم کیاجارہاتھا‘ جو یمونا وہار اس اور علاقے کے درمیان میں پڑتا ہے۔

خاتون‘ملکا اور شہنازاحتجاج میں سرگرم تھی اور تینو ں نے کاروان کا بتایا کہ بھٹی نے جب فرقا ن پر گولی چلائی اور جان سے مارا تو وہ لوگ محض 20فٹ کی دوری پر تھے۔

فرقان کو گولی لگنے کے فوری بعد ایک ویڈیو کاردم پوری برج کے پاس سے فلمایاگیاتھا اس میں لوگ فرقان کو اسپتال لے کربھاگتے نظر آرہے ہیں اور یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں ”دیکھو پولیس والے نے گولی ماردی“ اور ”حکومت کس قدر بزدل ہوگئی ہے کہ اب ہم پر گولیاں چلانا شروع کردیاہے“۔

دلشاد گارڈن میں گرو تیغ بہادر اسپتال کو24فبروری کے روز5:30پرجب فرقان کو لے کر گئے تو اس کو ”موقع پر ہی مردہ“ قراردیدیاگیاتھا۔عینی شاہدین نے دی کاروان کو بتایاکہ قبل ازیں دن میں ہندومذہبی علامتوں پر مشتمل مردوں کا ایک گروپ کاردم پوری کے احتجاجی خیمہ میں گھس گیا۔

بعد میں 40-50سکیورٹی اہلکاروں نے ڈائرے کی سمت آنسو گیس شل برسائے۔ملکا نے کاروان کو بتایاکہ”جیسے ہی وہ قبرستان کے قریب پہنچے ہر کوئی دوڑنے لگا۔ وہ ہولناک منظر تھا۔ مرکزی سڑک کے فوڈ اور برج سے میں نے دیکھا شیو مندر کے قریب میں کاروں پر آر ایس ایس کے لوگ کھڑے تھے“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ وہ لوگ ”جئے شری را م“ کا نعرہ لگارہے تھے‘ ملکا نے سمجھا کہ وہ آر ایس ایس کے لوگ ہیں۔ وہ گروپ یونیفارم میں خیمہ پر آنسو گیس کے شل برسانے والے دستے کے ساتھ شامل ہوگیا

اس وقت کے دوران ایک گشت کرتے یوئے ویڈیو نے بھی اسی بات کی تصدیق کی ہے۔ خاتون نے کہاکہ”فسادیوں نے اپنے خیمہ میں آگ لگادی۔مذکورہ فسادیوں نے معمرخواتین کو بھی نہیں چھوڑا‘ جو بلانکٹس کے اندر خود کو چھپا لیاتھا۔انہو ں نے قرآن کے اوراق کی بے حرمتی کی جائے نمازوں کو آگ میں جلادیا“۔

ملکا نے کاروان کو بتایاکہ وہ ان خواتین میں شامل تھیں جو خیمہ کے قریب میں نصب عارضی بیت الخلاء میں چھپ گئے تھے۔ جیسا ہی ملکا بیت الخلاء سے باہر نکلیں تو انہو ں نے دیکھا کہ خیمہ میں آگ لگی ہوئی ہے اور قرآ ن کی نسخوں کو جلتی آگ سے بچانے کی کوشش کرنے لگی۔

ان کی ایک یونیفارم زیب تن کئے ہوئے افیسر سے بحث او رمباحثہ بھی ہوا جس نے مقدس قرآن او ران کاسامان جلتی آگے میں پھینک دیاتھا۔آنسو گیس کا ایک شل ان کے پیر کے قریب میں آکر گرا دھویں کی وجہہ سے انہیں سانس لینے کے لئے مشقت کرنے پڑی۔

فرقان نے انہیں بچایا اور مقدس کتاب کے نسخوں کو بچانے کے لئے دوڑا۔انہوں نے کہاکہ جیسے ہی فرقان اس مقام پر پہنچا‘ مذکورہ اہلکاروں نے اس پر حملہ بول دیا۔

فرقان پر حملہ کرنے کا ملکا اور شہناز نے دو پولیس اہلکاروں پر الزام عائد کیا‘ بھٹی جو اس وقت جیوتی نگر میں تعینات کیاگیاتھا اور سونو اسی پولیس اسٹیشن کا ایک کانسٹبل۔ دونوں ہی احتجاج کے مقام پر ہمیشہ تعینات رہتے تھے

۔ملکا اور شہناز نے کہاکہ دونوں سونو نے فرقان کو پکڑ کر زمین پر گرا اور بھٹی نے اس پر گولی چلائی۔ خاتون نے بھی اس کی بات کی تصدیق کی کہ بھٹی نے فرقان پر گولیاں چلائیں مگر سنونو کے کھینچے کی بات انہیں یاد نہیں ہے۔

تمام تینوں عینی شاہدین نے کہاکہ بھٹی نے سامنے سے گولی چلائی۔انہوں نے کہاکہ ”سامنے سے گولی ماری ہے“۔ دہلی پولیس کی درج ایف ائی ار میں شدید عدم مطابقت پائی گئی ہے۔

اگلے روز فرقان کے بھائی عمران سے کہاگیا کہ اس کا بھائی احتجا ج کے مقام پر پتھر بازی کی وجہہ سے وہ زخمی ہوگیاہے۔ تاہم عمران موقع پر موجود نہیں تھا اور کہاکہ ایف ائی آر من گھڑت ہے۔

اسی نام کے ایک شخص جو علاقے میں ٹیوٹر کا کام کرتا ہے ان لوگوں میں سے ایک تھاجس نے فرقان کو اسپتال لے کر گیاتھا۔ جون کے مہینے میں پویس نے چارج شیٹ دائر کرتے ہوئے چار مسلم اشخاص کو قتل کا ملزم ٹہرایا جس میں محمد عمران نامی ٹیوٹر بھی شامل ہے۔

ان لوگوں کے ساتھ پولیس تحویل میں مارپیٹ کی گئی اور سادہ کاغذ پر دستخطیں لی گئی جس کو بعد میں اقبالیہ بیان کے طور پر استعمال کیاگیا۔ ان میں سے دو جس کی عمر20سال کی ہے اب بھی جیل میں قید ہیں۔

فرقان کی میڈیکل رپورٹ میں بھی عدم مطابقت پائی گئی ہے۔ گرو تیغ بہادر اسپتال میں 26فبروری کے روز پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی گئی‘ جس میں کہاگیاکہ فرقان کو دو گولیاں لگیں ایک دائیں پیر میں دوسرے پیٹ کے نچلے حصہ میں۔

موت کے روز اسی اسپتال کی میڈیکل قانونی سرٹیفکیٹ تیار کیاگیاجس میں گولیو ں کے زخم کا کوئی ذکر نہیں ہے‘ وہیں ایف ائی آر جو ایم ایل سی کے بعد درج کی گئی تھی میں صرف ایک گولی کا ذکر ہے۔

فرقان کے گھر والے اب بھی انصاف کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ عمران نے کہاکہ ”حالانکہ ایف ائی آر جھوٹ پر مبی ہے‘ اس میں دوسچائیو ں کو چھپایاگیاہے۔ ایک کے میرے بھائی پر گولی چلائی گئی‘ دوسرا اس کی موت کے متعلق ہے“۔ اس پر دائر کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا کہ فرقان کی نعش تب تک اس کے حوالے نہیں کی جائے گی۔

فرقان کی موت نے فردوس کو بیوہ اور دوبچوں کو یتیم کردیاہے۔ فردوس فرقان کی موت کے وقت حاملہ تھیں مگر صدمے کی وجہہ سے حمل جاتارہا ہے۔ فرقان کے گھر والے اب بھی انصاف کی جدوجہد کرہے ہیں۔ تاہم ہرویر سنگھ بھٹی سزاء سے محفوظ ہے۔

واقعہ کے کئی ماہ بعد انہیں جیوتی نگر سے اوکھلا منتقل کیاگیا اور انہوں نے اپنے اوپر لگے الزامات کا اب تک کوئی جواب نہیں دیاہے۔

فرقان کے کیس میں کاروان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا دہلی کے پولیس کے کسی بھی عہدیدار پولیس کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر ساوتھ ایسٹ دہلی‘ پبلک ریلیشن افیسر‘ اسٹیشن ہاوز افیسر اوکھلا پولیس اسٹیشن اور فرقان کیس کی جانچ کررہے تحقیقاتی عہدیدارو بھٹی نے کوئی جواب اب تک نہیں دیاہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں