عیدمیلاد پر” محمد سب کیلئے” مہم کے موقع پر علمائے کرام اور معززین کی خرافات سے بچنے کی اپیل

Exif_JPEG_420

ممبئی :22/ ستمبر( ایجنسیز)عید میلادالنبی ص کے موقع پر ” محمدص سب کیلئے ” مہم کے دوران آج شام جنوبی ممبئی میں اسلام جمخانہ میں علمائے کرام اور معززین نے مکمل تعاون کا یقین دلایااور مسلمانوں سے اپیل کی کہ غیر مسلم بھائیوں کو اسلامی تعلیمات اور سیرت النبی سے مطلع کیا جائے اور اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اس موقع پر مولانا حضرت معین الدین اشرف مثنیٰ میاں نے کہاکہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر نکالے جانے والے جلوسوں میں مکمل طورپر خرافات کو ختم کرنا اور اس مہم کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح طور پر کہاکہ محکمہ پولیس اور انتظامیہ کو بتایا گیا ہے کہ ڈی جے بجانے اور ناچ گانے کا تعلق اسلام سے نہیں ہے اورپولیس اگر چاہے توقانونی طورپر اپنا کام کرسکتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ علمائے کرام ممبر سے اتر کر عام لوگوں میں آئیں اور نوجوانوں کو مسجد کی جانب راغب کیا جائے۔تاکہ۔نمازیں قائم کریں اور معاشرے کو خرافات سے پاک کیا جائے۔دعوت اسلامی کے سربراہ مولانا شاکر نوری نے سیرت النبی پر مفصل خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک انگریز مصنف نے برسوں تحقیقات کے بعد ایک کتاب لکھی ،جس میں سو شخصیات کو شامل کیا گیا اور آپ ص کو پہلا نمبر دیا گیا ہے اور کہاکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی دوسرا نہیں یہ سب سے بہتر اور سب سے اول پوزیشن پر ہیں ۔

تو اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد لوگوں نے اس سے سوال پوچھا تومائیکل ہارٹ نے جواب میں کہاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ایک شخص کو کھیل کود کے دوران اپنے بچے کو آواز دینے کو نمبر ون پہ رکھا اس نے کہا ایک واقعہ ان کی زندگی کا ایسا مجھے متاثر کیا کہ اس واقعہ کی بنیاد پرانہیں اول الذکر رکھا کیونکہ حضور نے ایک باپ کو اپنے بیٹے کو پکارنے سے روک دیا کہ کسی یتیم کا دل نہ ٹوٹ جائے۔ انہوں نے کہاکہ “بس یہی ایک واقعہ ایسا ہے جس واقعہ نے مجھے مجبور کیا کہ میں حضور کو فرسٹ پوزیشن پررکھوں۔” مولانا شاکر نوری نے کہاکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم حضور کی اطاعت کریں اور عمل بھی کریں۔

یوسف ابراہانی صدر اسلام جمخانہ نے کہاکہ عیدمیلاد النبی کے جلوس اور جلسوں میں بہت ساری ایسی خرافات ہیں جس کو بند کرنا بہت ضروری ہے کہ اس کو اس کا ڈائریکٹ اثر سماج پر پڑتا ہے۔ابتداء میں سوشل ورکر سعید خان نے مذکورہ مہم کے مقاصد واغراض کو پیش کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال سے اس مہم کا آغاز کیا گیا اور اس کے کئی مقاصد رہے ہیں ،کیونکہ ایک سروے عام طور پر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کرایا گیا کہ طلباء نے آپ ص کو محض ایک ” دھرم گرو” سے زیادہ نہیں جانا اور انہیں جب سیرت رسول سے آگاہ کیا گیا تو اس موقع پر محسوس ہوا کہ ہم اپنے نبی سے اتنی محبت کرتے ہیں لیکن یہ شکایتیں عام تھیں اور کہاکانے لگا کہ اتنے سالوں بعد کیوں اس مقصد کو آگے لایا گیا ۔

سعید خان نے کہاکہ میونسپل کارپوریشن میں بچوں کے درمیان سیرت پر مقابلے منعقد کیے گئے ہیں اور پینل میں جج غیر مسلم عملے کو مقرر رکھا گیا،تاکہ وہ اس بہانے سیرت رسول اللہ سن لیں تو بڑی تعداد میں ٹیچرز اور افیسرز نے شرکت کی ۔اسی طرح پہلی باراسلامی اور قرآنی کتابت کی نمائش منعقد کی گئی اور امسال ماہم کی مخدوم شاہ درگاہ کے احاطے میں رکھی گئی اور 22 ستمبر کو دن بھر کے لیے رکھا گیا ہے۔مذکورہ نمائش میں مہاراشٹربھر سے خطاط تشریف لائیں گے۔جبکہ امسال نعتیہ شاعرہ 23 تاریخ کو رنگ ہال میرا روڈ میں رکھا گیا ہے ۔جس میں غیر مسلم شعراء شریک ہوئے ۔

سعید خان نے کہاکہ ہیومن چین 26 تاریخ کو بنائی جائے گی اور مغربی مضافات میں باندرہ اور جوگیشوری اور گورے گاؤں کے درمیان مختلف مقامات طلباء کو کھڑے رکھا جائے گا اورسن کے ہاتھوں میں حدیثوں کے ڈسپلے لے کے دو گھنٹہ کھڑے رہیں گے ۔میلاد النبی کے موقع پر پہلی بار ممبئی شہر میں صاف صفائی کرنے والوں اور گٹروں اور نالیوں کو صاف کرنے والے ملازمین کو کھانا کھلایا جائے گا۔ ان کو تحفے دیں گے اور مسجدیں کھولی گئیں،اور غیر مسلم کا دورہ کرایا گیا۔مستقبل میں بڑے پیمانے پراس مہم کو چلایا جائے گا۔