نئی دہلی:(ایجنسیز) آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے منگل کے روز گھریلو گیس سلنڈر (ایل پی جی سلنڈر) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں بھی 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔ اس سے چند روز قبل دودھ کی بڑی کمپنیوں نے دودھ کے داموں میں 2 سے 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔ اس طرح عوام پر مہنگائی نے چہار سو سے حملہ کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر روس یوکرین جنگ کا اثر پڑ رہا ہے کیونکہ خام تیل کے داموں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت چاہے تو قیمتوں کو قابو میں رکھ سکتی ہے کیونکہ حال ہی میں 5 ریاستوں میں انتخابات تھے اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل میں اضافہ کے باوجود گھریلو سطح پر پٹرولیم مصنوعات کے دام مستحکم رہے۔

بہرحال، کئی ماہ کے وقفے کے بعد ایل پی جی سلنڈر کے کے داموں میں 50 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ آخری بار گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کے دام 6 اکتوبر 2021 کو تبدیل کئے گئے تھے۔ دہلی میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھ کر 949.5 روپے ہو گئی ہے۔ پہلے اس کی قیمت 899.50 روپے تھی۔مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں ایل پی جی سلنڈر کے دام بڑھ کر 976 روپے ہو گئے ہیں۔ پہلے یہاں اس کے دام 926 روپے تھے۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں دام 938 روپے سے بڑھ کر 987.5 روپے ہو گئے ہیں، جبکہ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں 14.2 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 998 روپے سے بڑھ کر 1039.5 روپے ہو گئی ہے۔
ممبئی میں 14.2 کلو کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھ کر 949.5 روپے ہو گئی ہے، یہاں اس کی قیمت 899.5 روپے تھی۔ دوسری جانب چنئی میں 14.2 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھ کر 965.5 روپے ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے یہاں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 915.5 روپے تھی۔

خیال رہے کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں مدت طویل سے مستحکم تھیں۔ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کے داموں میں 6 اکتوبر 2021 اور پٹرول ڈیزل کے داموں میں 4 نومبر کے بعد سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ دوسری جانب روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 40 فیصد تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔