• 425
    Shares

عمر کے ساتھ ہر فرد کے دماغ میں تبدیلیاں آتی ہیں اور دماغی افعال بھی تبدیل ہوتے ہیں۔عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی تنزلی عام ہے اور اس کا نتیجہ بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔

مگر کچھ عادات دماغی افعال کو بہتر بنا کر عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی تنزلی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں جبکہ کسی ٹاسک کے دوران توجہ مرکوز کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔چند عام طریقوں کے ذریعے آپ عمر بڑھنے کے باوجود دماغی افعال کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ دماغی سرگرمیاں عصبی خلیات میں نئے کنکشنز کے سلسلے کو متحرک کرتی ہیں اور ممکنہ طور پر نئے دماغی خلیات بھی بنتے ہیں۔اس سے دماغی لچک بھی پیدا ہوتی ہے اور افعال کو نقنصان سے تحفظ ملتا ہے۔

اس حوالے سے ذہن کو متحرک کرنے والی کوئی بھی سرگرمی مددگار ثابت ہوسکتی ہے جیسے مطالعہ کرنا، نئے کورسز، لفظی پہیلیاں یا معمے وغیرہ۔یہ بھی کرنے کا دل نہ کریں تو ڈرائنگ کرنے سے بھی یہ فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ دماغی سرگرمیاں عصبی خلیات میں نئے کنکشنز کے سلسلے کو متحرک کرتی ہیں اور ممکنہ طور پر نئے دماغی خلیات بھی بنتے ہیں۔

اس سے دماغی لچک بھی پیدا ہوتی ہے اور افعال کو نقنصان سے تحفظ ملتا ہے۔

اس حوالے سے ذہن کو متحرک کرنے والی کوئی بھی سرگرمی مددگار ثابت ہوسکتی ہے جیسے مطالعہ کرنا، نئے کورسز، لفظی پہیلیاں یا معمے وغیرہ۔

یہ بھی کرنے کا دل نہ کریں تو ڈرائنگ کرنے سے بھی یہ فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

جسمانی ورزش

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ جسمانی طور پر متحرک رہنا دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ جو جانور جسمانی طور پر متحرک ہوتے ہیں ان کی خون کی ان ننھی شریانوں میں اضافہ ہوتا ہے جو آکسیجن سے بھرپور دماغی حصوں کو فراہم کرتی ہیں۔

ورزش سے بھی نئے عصبی خلیات بننے کا عمل تیز ہوتا ہے اور دماغی خلیات کے درمیان کنکشنز بڑھتا ہے۔

اس کے نتیجے میں دماغ زیادہ فعال، لچکدار اور مطابقت حاصل کرنے والا بنتا ہے جبکہ جسمانی سرگرمیوں سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی، کولیسٹرول لیول بہتر، بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد اور ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے، یہ سب عناصر دماغ کے ساتھ دل کی صحت کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اچھی غذا کا استعمال

اچھی غذائیت جسم کے ساتھ ساتھ ذہن کو تیز رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر پھلوں، سبزیوں، مچھلی، گریوں، زیتون کے تیل اور نباتاتی پروٹینز پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال دماغی افعال میں تنزلی اور ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

بلڈ پریشر کی سطح بہتر بنائیں

درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر سے بڑھاپے میں دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

طرز زندگی کے عناصر سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

جسمانی وزن کو معمول پر رکھنے، ورزش کو معمول بنانا، تناؤ سے بچنے کی کوشش اور اچھی غذا کے ذریعے بلڈ پریشر کی سطح کو معمول پر رکھا جاسکتا ہے۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کریں

ذیابیطس دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والا اہم عنصر ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ اچھی غذا، جسمانی طور پر سرگرم رہنے اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھ کر ذیابیطس سے بچنا ممکن ہے۔

اس کے برعکس بلڈ شوگر کی سطح مسلسل زیادہ رہے تو اسے کنٹرول کرنے کے لیے ادویات کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

بلڈ کولیسٹرول کی سطح بہتر بنائیں

نقصان دہ سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو بھی ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والا عنصر سمجھا جاتا ہے۔

غذا، ورزش، جسمانی وزن کو کنٹرول اور تمباکو سے گریز کرکے طویل المعیاد بنیادوں پر کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

اگر مزید مدد کی ضرورت ہو تو اپنے ڈاکٹر سے ادویات کے لیے رجوع کریں۔

تمباکو نوشی سے گریز

تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں بتانے کی زیادہ ضرورت نہیں پھیپھڑوں سے ہٹ کر یہ عادت پورے جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

دماغ پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دماغی تنزلی کا سفر تیز ہوجاتا ہے۔

اپنے جذبات کا خیال رکھیں

جو لوگ ذہنی طور پر بے چینی، مایوسی، نیند کی کمی یا تھکاوٹ کے شکار ہوتے ہیں وہ ذہنی افعال کے ٹیسٹوں میں بھی ناقص اسکور حاصل کرتے ہیں۔

یقیناً یہ خراب اسکور عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی تنزلی کے خطرے کو ظاہر نہیں کرتے مگر اچھی ذہنی صحت اور مناسب نیند سے ان مسائل کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

سماجی میل جول

لوگوں سے مضبوط تعلقق ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کرتا ہے جبکہ اس سے بلڈ پریشر کی سطح بھی کم ہوتی ہے۔

اچھی نیند

کچھ نیا سیکھنے سے پہلے اور بعد میں مناسب وقت تک نیند کو عادت بنائیں۔

جب آپ تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو چیزوں پر توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہوجاتا ہے اور جب کچھ سیکھنے کے بعد نیند کے مزے لیتے ہیں تو اس سے دماغ کو نئی معلومات کو منظم کرنے میں مدد ملتی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں یاد کرسکیں۔

رات کی اچھی یادداشت اور مزاج کے لیے بھی مفید ہے، بالغ افراد ہر رات 7 سے 8 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے دوران دماغ اپنی صفائی کرکے نقصان دہ اجزا کو نکال باہر کرتا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔