عمران پرتاپ گڑھی کی تقریروں سے گجرات کی سیاسی فضاتبدیل!

543

نئی دہلی:28/نومبر(ایجنسیز) ابھی سیاسی میدان میں قدم رکھے کچھ ہی دن ہوئے ہیں، اور عمران پرتاپ گڑھی نے اپنی تقریر کے جادو سے عوامی ہجوم کو جلسہ گاہوں میں کھینچ کر بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پہلے اقلیتی محکمہ کے قومی صدر اور پھر راجیہ سبھا کی رکنیت، دونوں ہی تقرریوں کے بعد کانگریس کی پرانی لابی نے عمران کی اہلیت پر سوال کھڑے کئے تھے، لیکن انھوں نے جس طرح ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں اپنے شعبے کی مضبوط موجودگی درج کرائی اس نے نکتہ چینی کرنے والوں کے منھ پر تالا لگا دیا۔اب جبکہ پوری کانگریس پارٹی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے سفر میں مصروف ہے، بڑے بڑے قدآور اور تجربہ کار لیڈر یا تو گجرات آنا ہی نہیں چاہتے یا امیدوار ان سے پروگرام کا مطالبہ ہی نہیں کر رہے ہیں۔

دونوں ہی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو آج کی تاریخ میں اگر کوئی اسٹار پرچارک کی مانگ ہے تو بلاشبہ عمران پرتاپ گڑھی ہی ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی ہے کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے بعد گجرات کے کانگریسی امیدوار عمران کی سب سے زیادہ مانگ کر رہے ہیں۔ گجرات جیسی حساس ریاست میں عمران پرتاپ گڑھی نے جس قدر توازن کے ساتھ تقریر کی ہے اس سے بی جے پی بھی پریشان ہے۔عمران کے کسی بھی جلسے میں پرجوش نوجوانوں کا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے۔ وڈگام میں جگنیش میوانی کے جلسے میں کی گئی عمران کی تقریر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

موربی کے جلسے میں عمران نے جو جذباتی اپیل کی ہے وہ عمران کو روایتی قائدین سے منفرد کر رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح سے عمران پرتاپ گڑھی گجرات کی حکومت پر شدید، سخت اور زوردار حملہ کرتے ہوئے سنسکرت کے شلوک، محاورات اور عام ہندی زبان کا استعمال کر رہے ہیں، اس سے بی جے پی لابی ان کی تقریر پر فرقہ واریت کا ٹھپہ بھی نہیں لگا پا رہی ہے۔گجرات الیکشن بہت دلچسپ مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اویسی کے ساتھ کیجریوال کی انٹری نے اس میں ایک الگ ہی رنگ کا تڑکا لگا دیا ہے۔ ابتدا میں ایسا لگتا تھا کہ عمران کو اویسی کی کاٹ کے لیے لایا گیا ہے۔

لیکن اب لگتا ہے کہ عمران کی چند چناوی میٹنگوں کے بعد ہی گجرات کی اقلیتی اکثریت والی نشستوں کے ساتھ ساتھ دیگر نشستوں پر بھی عمران کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ آج جب کانگریس کے باقی اسٹار پرچارک دور دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں، عمران کے مسلسل مطالبے نے راہل گاندھی کے فیصلے کو درست ثابت کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران مستقبل میں کانگریس کا مضبوط ستون بننے کے راستے پر ہیں۔