اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) پر زور دیا ہے کہ وہ اسلاموفوبیا اور بنیاد پرستی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کا سختی سے مقابلہ کرے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پاکستان کی جی ایس پی پلس کی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے حالیہ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد پر بھی سنجیدگی سے نوٹس لیا اور کہا کہ حکومت، توہین رسالت کے معاملے سے ملک کی جی ایس پی پلس کی حیثیت کو جوڑنے پر یورپی یونین (ای یو) کے ساتھ بات کرے گی۔
۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ او آئی سی کے سفیروں سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے انہیں بتایا کہ مسلم ممالک اب تک مغرب کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین رسالت سے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، یہ دنیا اور آزادی اظہار رائے کا مسئلہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے، مغرب نے مسلمانوں کو بدنام کیا ہے جو بالکل غلط ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کسی بھی فرد کے فعل کو پوری امت کا عمل نہیں کہا جانا چاہیے’۔وزیر اعظم خان نے کہا کہ اسلام اور پوری مسلم دنیا نے کسی بھی شکل میں ہونے والی دہشت گردی کی پرزور مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تاہم پوری امت مسلمہ کو کسی فرد کے فعل کا الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے، اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنا مکمل طور پر بلاجواز ہے’۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق وزیر اعظم نے اسلام آباد میں مقیم او آئی سی سے تعلق رکھنے والے ممالک کے سفرا سے ملاقات میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے اس موقع پر گزشتہ سال عالم اسلام کے رہنماؤں کو تحریر کردہ اپنے دو خطوط کا ذکر کرتے ہوئے اسلامی ممالک کے سفرا کو اسلاموفوبیا کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے بارے میں آگاہ کیا اور اس مسئلے کو مل کر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔