’عمران خان سے کہو نا مجھے ویزہ دے۔ انڈیا میں میرا کوئی نہیں ہے

0 22

محمد زبیر خان صحافی

’عمران خان سے کہو نا مجھے ویزہ دے۔ انڈیا میں میرا کوئی نہیں ہے۔’’تم پاکستان آؤ میں تمہاری شادی کرواتا ہوں۔’یہ دو بھائیوں کی گفتگو ہے جو پاکستان کی آزادی کے بعد اب پہلی بار ملے ہیں۔محمد صدیق اور محمد حبیب کی کہانی ان لاکھوں افراد جیسی ہے جن کے لیے تقسیم اور آزادی کے بعد ہونے والا بٹوارہ صرف ایک کہانی نہیں۔ وہ اس کہانی کے ایسے کردار ہیں جو اس وقت بچھڑ گئے تھے جب جالندھر سے افراتفری میں ان کا خاندان پاکستان روانہ ہوا۔ ان کے والد ہلاک ہو گئے۔ صدیق اپنی بہن کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے۔ حبیب والدہ کے ساتھ وہیں رہ گئے جن کا بعد میں انتقال ہو گیا۔یہ سب کیسے ہوا انھیں آج بھی پوری طرح یاد نہیں۔ لیکن تقریباً 75 سال بعد دونوں بھائیوں کی کرتارپور کے ذریعے ملاقات ایسی ان گنت کہانیوں میں سے ہے جن کا آغاز تقسیم سے ہوا۔‘

عمران خان سے کہتا ہوں کہ وہ بچھڑے ہوئے بھائیوں کو ملانے کے لیے میرے بھائی محمد حبیب کو پاکستان کا ویزا دے دے۔ زندگی کی آخری سانسیں ہم اکھٹے گزار لیں تو شاید ماں باپ، بہن بھائیوں سے بچھڑنے کا دکھ کچھ کم ہو سکے۔‘یہ کہنا تھا پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے چک 255 کے رہائشی محمد صدیق کا۔کرتار پور میں ان کی ملاقات کے عینی شاہد ناصر ڈھلوں کہتے ہیں کہ دونوں بھائیوں کی ملاقات انتہائی جذباتی تھی۔ اس ملاقات کے موقع پر کوئی سو کے قریب لوگ موجود تھے۔سب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ چند گھنٹوں کی ملاقات کے بعد جب بھائی ایک بار پھر جدا ہو رہے تھے تو ہر آنکھ ایک بار پھر بھیگ چکی تھی۔

دونوں بھائیوں کے درمیان کئی برسوں بعد پہلا رابطہ دو سال قبل ہوا تھا۔ دو سال سے کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ دونوں بھائی آپس میں ویڈیو کال نہ کرتے ہوں۔ محمد صدیق موبائل فون استعمال نہیں کر سکتے مگر ان کے بچے اور گاؤں کے لوگ اس معاملے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔اسی طرح محمد حبیب بھی موبائل فون استعمال نہیں کرتے مگر ان کے سکھ دوست ان کی مدد کرتے ہیں۔ محمد حبیب ایک سکھ خاندان کے پاس قیام پذیر ہیں۔ہم جس وقت محمد صدیق سے ملنے ان کے گاؤں چک 255 پہنچے تو وہ اس وقت اپنے بھائی محمد حبیب کے ساتھ زوم پر بات کر رہے تھے۔ محمد صدیق اپنے بھائی محمد حبیب سے کہہ رہے تھے کہ ‘تمہارے پوتے، نواسے اور نواسیاں تمھیں یاد کرتے ہیں۔ تم نے شادی نہیں کی۔ پاکستان آؤ تو میں تمھاری شادی کرواتا ہوں۔‘محمد حبیب اپنے بھائی محمد صدیق کو کہہ رہے تھے کہ ‘عمران خان سے کہو نا مجھے ویزا دے۔ انڈیا میں میرا کوئی نہیں ہے۔ عمر کے اس حصے میں بہت تنہا ہو چکا ہوں۔ اب زندگی اتنے اکیلے پن میں نہیں گزاری جاتی۔‘

خاندان کیسے بچھڑا؟:محمد صدیق کو اپنے خاندان سے بچھڑنے کی کہانی اچھے سے یاد ہے۔ اس وقت ان کی عمر کوئی 10 سے 12 سال تھی جبکہ محمد حبیب کو ایسا کچھ بھی یاد نہیں ہے۔ ماسوائے اپنے ماں، باپ، بہن بھائیوں کے نام اور اب وہ جس علاقے میں مقیم ہیں۔ وہاں کے لوگوں سے سنی ہوئی باتوں کے۔ اس وقت ان کی عمر کوئی ڈیڑھ دو سال تھی۔محمد صدیق بتاتے ہیں کہ ہمارا گاؤں جگرواں، جالندھر میں تھا۔ ‘میرے والد زمیندار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے کھیتوں میں بہت خربوزہ لگتا تھا۔ مجھے اپنی والدہ بھی یاد ہیں۔’ انھیں یاد ہے کہ ان کی والدہ ان کے چھوٹے بھائی محمد حبیب کو لے کر پھول والا اپنے میکے گئی تھیں جو آج بھی پھول والا کہلاتا ہے اور انڈیا کے ضلع بھٹنڈہ میں واقع ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ‘ان کے میکے جانے کے بعد ہمارے گاؤں پر حملہ ہوگیا تھا۔ لوگ افراتفری کے عالم میں علاقہ چھوڑ کر منتقل ہورہے تھے۔ سب کا رخ پاکستان کی طرف تھا۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے کی کوشش میں مصروف تھا۔‘

‘مجھے یاد ہے کہ میں اپنے والد اور بہن کے ساتھ تھا۔ والد ہنگاموں میں کیسے ہلاک ہوئے مجھے نہیں پتا چلا۔ ہم کسی نہ کسی طرح بہن بھائی فیصل آباد کے مہاجر کیمپ پہنچ گئے تھے۔‘محمد صدیق کہتے ہیں کہ ‘فیصل آباد کے مہاجر کیمپ میں میری بہن بھی بیمار ہو کر ہلاک ہو گئی تھیں۔ ان ہی دنوں پتا نہیں کیسے میرے تایا مجھے تلاش کرتے ہوئے فیصل آباد کے مہاجر کیمپ پہنچے۔‘محمد حبیب کہتے ہیں کہ ‘میرا اس گاؤں اور علاقے میں تو کوئی نہیں ہے۔ مجھے علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ جب فسادات شروع ہوئے تو میں اور ماں اپنے میکے ہی میں پھنس گئے تھے۔ اس ہی دوران تقسیم مکمل ہو گئی۔ پاکستان اور انڈیا بن گیا تو اطلاعات ملیں کہ والد، بہن سب قتل ہو گئے ہیں، بھائی کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلا تھا۔‘‘میری والدہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکیں۔ پہلے ان کا دماغی توازن خراب ہوا اور پھر وہ دنیا چھوڑ کر چلی گئیں۔ اس طرح میکے کے لوگ بھی پاکستان چلے گئے تھے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے بچپن سے اب تک صرف اپنے سردار دوست ہی دیکھے ہیں۔ ان ہی کے پاس رہتا ہوں۔ ان ہی کے پاس بڑا ہوا ہوں۔‘محمد صدیق کہتے ہیں کہ ‘تقسیم برصغیر کے بعد آنے والے قافلے کچھ نہ کچھ اطلاعات دیتے رہے تھے۔ ہم تک یہ اطلاعات پہنچتی رہتی تھیں کہ والدہ بھی وفات پا گئی ہیں۔ مگر زیادہ مؤثر رابطہ اس لیے قائم نہ ہو سکا کہ میری والدہ کا میکہ بھی پاکستان منتقل ہوگیا تھا۔ وہ محمد حبیب کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتا سکے تھے۔‘محمد صدیق کہتے ہیں کہ ‘ہمارے زمانے میں شناختی کارڈ تو بنتے نہیں تھے مگر میں بہرحال پاکستان کی عمر سے 10 سے 12 سال بڑا ہوں۔ زندگی کے کئی ماہ و سال بھائی کو یاد کرتے ہوئے گزارتے تھے۔ والدہ کی وفات کا یقین آ گیا تھا۔ بہن اور والد کی لاش دیکھ لی تھی۔ مگر بھائی کے بارے میں ساری زندگی یہ یقین رہا کہ میرا بھائی زندہ ہے۔‘‘وہ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب میرے سرپرست پاکستان میں میرے تایا تھے۔ ہم لوگ فیصل آباد کے مختلف علاقوں میں رہے۔ پھر ہمیں چک 255 میں زمنیں الاٹ ہو گئیں جس کے بعد ہم اس گاؤں منتقل ہو گئے۔‘‘میری شادی بھی میری تایا زاد کے ساتھ ہوئی تھی۔ ساری زندگی کھیتی باڑی اور زمینداری کرتے گزر گئی۔‘محمد حبیب اپنے بچپن اور ماضی کے بارے میں زیادہ بات کرنے کو تیار نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘بن ماں باپ کے بچے کے ساتھ کیا ہوا ہوگا اور کیا ہوتا ہو گا۔ بس میں نے اپنی زندگی اسی گاؤں میں گزار دی ہے جہاں پر میری ماں مجھے چھوڑ کر مری تھیں۔‘شادی کیوں نہیں کی، گھر کیوں نہیں بسایا، اس بارے میں بھی محمد حبیب بات نہیں کرتے، بس یہ کہتے ہیں کہ میرے سردار دوست اور پھول والا کے لوگ ہی میرا سب کچھ ہیں۔ ‘انھوں ہی نے مجھے میرے بھائی سے ملوایا ہے۔‘

محمد صدیق (بائیں) تقریباً 75 برس بعد اپنے چھوٹے بھائی محمد حبیب سے کرتار پور دربار صاحب میں ملے

رابطہ کیسے ہوا؟:محمد صدیق کہتے ہیں کہ زندگی کے آخری دنوں میں بھائی کی یاد بہت زیادہ تڑپا رہی تھا۔ ‘ہمیشہ میرا دل کہتا تھا کہ میرا بھائی زندہ ہے۔ مجھے اس کو دیکھنے کی بہت چاہت تھی۔ میں پیروں فقیروں کے پاس بھی گیا۔ سب نے کہا کہ کوشش کرو گے تو بھائی مل جائے گا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ‘میری کہانی میرا سارا پنڈ جانتا ہے۔ میں نے اپنے نمبردار اور اب نمبردار کے بیٹے محمد اشراق کو اپنی کہانی سنائی تھی۔ محمد اشراق آج سے کوئی دو سال پہلے ناصر ڈھلوں کو لے کر میرے پاس آیا تھا۔ اس نے مجھ سے ساری باتیں پوچھ کر کیمرے میں ریکارڈ کر کے میری فلم چلائی تھی۔‘‘فلم چلانے کے کچھ دن بعد ہی وہ اور محمد اشراق دوبارہ آئے۔ انھوں نے کہا کہ میرا بھائی مل گیا ہے۔ انھوں نے میرے بھائی سے بات بھی کروائی تھی۔‘ناصر ڈھلوں کہتے ہیں کہ چک 255 کا نمبردار محمد اشراق میرا دوست ہے۔ ‘میں اور میرے دوست لولی سنگھ نے تقسیم برصغیر کے وقت بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملانے کے لیے یو ٹیوب پر چینل پنجابی لہر بنا رکھا ہے۔ ہم ایسے لوگوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں جو اپنے پیاروں سے بچھڑ چکے ہیں۔ ان کو ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ‘جب محمد صدیق کی کہانی یوٹیوب کے ذریعے بیان کی تو وہ ویڈیو پھول والا کے ڈاکٹر جگفیر سنگھ نے دیکھی۔ انھوں نے ہمارے ساتھ سوشل میڈیا پر رابطہ قائم کیا، پھر ان کے ساتھ فون پر بات ہوئی۔ ڈاکٹر جگفیر سنگھ نے ہمیں وہ نام وغیرہ بتائے جو محمد صدیق بتاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر جگفیر سنگھ کہتے ہیں کہ محمد حبیب یا حبیب خان کو ہم سب لوگ سکا کے نام سے جانتے ہیں۔ ‘ان کا اصل نام شاید پورے علاقے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ ان میں سے میں بھی ایک ہوں۔ سکا کی کہانی میں نے اپنے بڑوں سے سن رکھی تھی جبکہ سکا خود بھی مجھے اپنی کہانی کئی بار سنا چکے تھے۔‘سکا کی آرزو تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے بھائی سے مل لیں۔ ‘مگر نہ کوئی تصویر نہ کوئی اتا پتا یہ کیسے ممکن ہوتا۔ یہ ناممکن دو سال قبل پنجابی لہر نامی یوٹیوب چینل نے ممکن کر دیا تھا۔‘
گذشتہ دو سال تک کیا ہوتا رہا؟:محمد صدیق کہتے ہیں کہ ناصر ڈھلوں اور نمبردار محمد اشراق نے دو سال پہلے ویڈیو کال کے ذریعے محمد حبیب سے میری بات کروائی تھی۔ ‘بات شروع ہوئی تو سب سے پہلے میں نے ماں، باپ کا نام پوچھا اس نے درست بتایا میں نے اپنا نام پوچھا تو درست بتایا۔‘‘اس نے علاقے کے لوگوں سے اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں سنی ہوئی باتیں بھی بتائیں جو درست تھیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ‘حبیب یہ چاہتا تھا کہ وہ پاکستان آئے اور اگر وہ پاکستان نہ آ سکے تو میں اس کو ملنے کے لیے انڈیا جاؤں مگر بہت ساری رکاوٹیں تھیں۔‘محمد اشراق کہتے ہیں کہ ‘اس کے بعد محمد صدیق کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوایا گیا۔‘جگفیر سنگھ کہتے ہیں کہ سکا کا کوئی راشن کارڈ وغیرہ نہیں بنا ہوا تھا۔ ‘میرے، ناصر ڈھلواں اور محمد اشراق کے درمیان طے ہوا تھا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں اطراف سے ویزے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ایسا ممکن نہ ہوسکا کیونکہ درمیان میں کورونا آ گیا۔‘

ملاقات کیسے ہوئی؟:ناصر ڈھلوں کہتے ہیں کہ ‘اس دوران مشورہ ہوا کہ اب کرتارپور راہداری کھل چکی ہے تو اس راستے سے کوشش کرتے ہیں کہ بچھڑے ہوئے بھائی آپس میں مل جائیں۔ کم از کم ان کی ایک ملاقات تو ہو جائے۔‘جگفیر سنگھ کہتے ہیں کہ جب کرتارپور کی راہداری کھلی تو ہم نے دربار صاحب پر ماتھا ٹیکنے کا پروگرام بنایا اور اس پروگرام میں سکا کو بھی شامل کرلیا۔ ‘ہم چاہتے تھے کہ دونوں کام ایک ساتھ ہو جائیں۔ بچھڑے ہوئے بھی مل جائیں اور ماتھا بھی ٹیک لیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بکنگ کروائی۔ ‘اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ دونوں طرف کی حکومتوں، انتظامیہ نے ہمارا ساتھ دیا۔ جس کے بعد جب ہم 10جنوری کو کرتارپور میں داخل ہوئے تو محمد صدیق اپنے اہل و عیال اور پورے پنڈ کے ہمراہ وہاں پر موجود تھے۔‘محمد صدیق کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کے لیے تحفے میں کپڑے وغیرہ لے کر گیا تھا۔ وہ بھی ہم سب کے لیے کپڑے لایا تھا۔ میری خواہش ہے کہ وہ پاکستان آ جائے جب میں نے اس سے کہا کہ میرے پاس پاکستان آ جاؤں تو وہ میرے کندھے پر سر رکھ کر روتا رہا اور اپنی رضا مندی ظاہر کی۔‘‘ہم بیٹھ کر دونوں روتے رہے۔ اپنے ماں باپ کو یاد کرتے رہے۔ ہماری ملاقات دربار صاحب پر ہو رہی تھی۔ اس موقعے پر ہم نے اپنے ماں باپ اور دیگر رشتے داروں کے لیے دعا بھی کی تھی۔ پتا ہی نہیں چلا کہ دن کیسے گزرا، کیا ہوا۔ جب جانے کا وقت آیا تو ہم سب اس کو دور تک جاتا ہوا دیکھتے رہے تھے۔‘محمد حبیب کہتے ہیں کہ ‘پھول والا میں میرا خیال رکھتے ہیں۔ مگر اب دل کرتا ہے کہ (پاکستان میں) پوتے، پوتیوں، نواسے، نواسیوں کے ساتھ کھیل کر کچھ وقت گزار لوں۔ جب میں مروں تو میری تدفین میرے اپنے کروائیں۔‘‘مجھ بوڑھے سے کسی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ دو وقت کی روٹی مجھے صدیق دے دیں گے۔ بس مجھے ویزا دے دیں، ایسا نہ ہو کہ دکھ بھری زندگی میں میری موت بھی دکھ بھری ہو۔‘