عمان: اردن کے ایک اسپتال کے کورونا وارڈ میں آکسیجن گیس ختم ہونے کی وجہ سے 7 مریض ہلاک ہوگئے جس پر وزیرصحت کو استعفیٰ دینا پڑا۔

اردن کے دارالحکومت عمّان کے ایک اسپتال میں کورونا کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں آکسیجن گیس کی سپلائی اچانک بند ہوگئی جس کے نتیجے میں 7 مریض ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے دو بھائی اور ایک بہن شامل ہیں جب کہ بقیہ تین افراد بھی آپس میں رشتہ دار ہیں۔ تاحال کورونا وارڈ میں آکسیجن کی فراہمی منقطع ہونے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے

۔مریضوں کی ہلاکت پر غمزدہ لواحقین نے اسپتال کے باہر دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جس پر اسپتال کے باہر بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

وزیر اعظم بشیر الخسوہین نے کہا کہ انہوں نے وزیر صحت ناتیر عبیدات کو برطرف کردیا ہے۔ عوام سے معذرت کے ساتھ ، انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس واقعے کی پوری ذمہ داری قبول کی ہے۔

"یہ ایک سراسر غلطی ہے جس کا جواز پیش کیا جاسکتا ہے اور اسے قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مجھے اس پر شرم آتی ہے اور اس کا جواز پیش نہیں کروں گا۔” خاسوینہ نے مزید کہا کہ وہ عدالتی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

اردن کے وزیر صحت ناتیر عبیدات نے اسپتال میں آکسیجن کی فراہمی منقطع ہونے سے 7 مریضوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

کورونا وارڈ میں آکسیجن گیس کی سپائی صبح 7 بجے منقطع ہوئی تھی جس کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں