عمان کے سلطان قابوس کا اِنتقال ، ھیثم بن طارق نئے سلطان

0 38

عمان کے سلطان قابوس کا اِنتقال ، ھیثم بن طارق نئے سلطان

’’ہم بابائے جدید عمان کے بتائے ہوئے راستہ پر چلیں گے ‘‘، حلف برداری کے بعد نئے حکمراں کا اعلان

مسقط۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) عمان کے حاکم سلطان قابوس بن سعید کا جمعہ کی شب 79 سال انتقال ہوگیا۔ وہ خلیج عرب کے علاقہ میں سب سے طویل عرصہ حکومت کرنے والے حاکم تھے، جنہوں نے 23 جولائی 1970ء تا 10 جنوری 2020ء تقریباً نصف صدی حکمرانی کی۔ سلطنت کے دربار سے جاری فرمان میں کہا گیا ہے کہ انتہائی رنج و غم اور صدمہ کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ جلالۃ الملک قابوس بن سعید جمعہ کو اس دارِ فانی سے گذر گئے‘‘۔ سلطان قابوس نے 1970ء کے دوران شاہی محل میں اپنے ہی علیل والد کو ایک بغاوت میں معزول کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ سلطان قابوس بھی کچھ عرصہ سے علیل تھے۔ غالباً انہیں کینسر کا عارضہ لاحق تھا۔ سلطان قابوس نے اپنا کوئی جانشین نہیں چھوڑا۔ وہ غیرشادی شدہ تھے۔ ان کا کوئی بھائی یا بیٹا بھی نہیں تھا۔ عمانی دستور کے مطابق کسی سلطان کیلئے مسلم، ایک پختہ کار اور معقولیت پسند شخص ہونا چاہئے جو عمانی ماں باپ کا جائز بیٹا ہو اور شاہی خاندان کا فرد ہو۔ سلطان قابوس نے اپنے ملک کو غیرمعمولی ترقی دی تھی اور وہ بابائے جدید عمان کہلائے جاتے ہیں۔ شاہی حسب نسب اور شجرہ کے مقامی ماہرین نے کہا کہ تقریباً 80 افراد اس اعتبار سے سلطان کے عہدہ کے اہل ہوسکتے ہیں۔ ان میں سلطان قابوس کے چچا طارق بن سعید کے بیٹے سلطان کے عہدہ کیلئے اولین ترجیح ہوسکتے ہیں۔ اس دوران سلطان قابوس کے چچازاد بھائی 65 سالہ ھیثم بن طارق کو سلطان عمان کا نیا سلطان منتخب کرلیا گیا۔ انہیں سلطان قابوس نے اپنے دور میں وزیر تہذیب و ثقافت مقرر کیا تھا۔ وہ سلطان کے انتہائی قریبی و بااعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ سلطان قابوس کو سپرد لحد کرنے کے کچھ دیر بعد سلطان ھیثم کی حلف برداری عمل میں آئے۔ انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کے دوران کہا کہ ’’ہم مرحوم سلطان کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ملکوں کے معاملات میں عدم مداخلت اور پرامن زندگی گزارنے کے اصولوں پر مبنی پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔

Read More