علی گڑھ: ہندو مہاسبھا کی لیڈر کا نماز پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ ایف آئی آر درج

علی گڑھ: نماز پر پابند عائد کرنے کا مطالبہ کرنے والی اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی نیشنل سکریٹری مہامنڈلیشور انپورنا بھارتی عرف پوجا شکون پانڈے کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ شکون پانڈے کو ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ (فرسٹ) کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیاہے۔

اس نوٹس کا جواب دیتے ہوئے شکون پانڈے نے کہا کہ اگر سچ بولنے سے کسی مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو انہیں اپنے بیان پر افسوس ہے۔ دریں اثنا، شکون پانڈے نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ انہوں نے جو بیان دیا ہے وہ اشتعال انگیز ہے۔

ایس ایس پی علی گڑھ کالاندھی نیتھانی نے منگل کے روز کہا، ’’پوجا شکون پانڈے کے خلاف قابل اعتراض بیان دینے پر علی گڑھ کے گاندھی پارک پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 153A ،153 بی، 295 اے اور 505 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔‘‘

نیتھانی نے کہا، ’’اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، متعلقہ مجسٹریٹ کی طرف سے اس معاملے پر نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔‘‘ ہندو مہاسبھا کے قومی ترجمان اشوک پانڈے نے انتظامیہ کی طرف سے کی گئی کارروائی پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب پوجا شکون پانڈے کے حوالہ سے تنازعہ کھڑا ہوا ہے، اس سے قبل وہ ناتھورام گوڈسے کی پوجا کرنے، گاندھی جی کی توہین کرنے دیگر کئی معاملات کو لے کر سرخیوں میں رہ چکی ہیں۔

تازہ ترین تنازعہ میں انہوں نے انتظامیہ کو ایک مکتوب پیش کیا اور صدر جمہوریہ کو مبینہ خون سے خط لکھ کر نماز جمعہ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’اس طرح کے ہجوم اکثر دوسرے فرقوں کے خلاف پرتشدد ہو جاتے ہیں، جیسا کہ کانپور میں دیکھا گیا ہے۔”