• 425
    Shares

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء نے صد سالہ پر جاری ہونے والے یونیورسٹی کے گزٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تصاویر ڈالنے پر اعتراضات کئے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلباء تقریباً ایک ہفتہ سے اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ گزٹ میں نریندر مودی کی تصویر شائع کر کے یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کی توہین کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ طلباء نے گزٹ میں اردو سیکشن کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ اس معاملے میں طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خط لکھ کر احتجاج درج کرایا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سال 2020 میں اپنے 100 سال مکمل کیے ہیں اور اس سال کو صد سالہ کے طور پر منایا گیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے صد سالہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ اس وقت کے وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا تھا۔ نریندر مودی دوسرے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اے ایم یو کی کسی تقریب سے خطاب کیا۔ اس سے قبل 1964 میں وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے خطاب کیا تھا۔

 

جس گزٹ پر تنازعہ کھڑا ہو رہا ہے اس میں وزیر اعظم مودی کی 7 اور سابق وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک کی 3 تصاویر موجود ہیں۔ جبکہ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی صرف 3 تصاویر لگائی گئی ہیں۔ طلباء نے اعتراض کیا ہے کہ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی صرف 3 تصاویر اور وزیر اعظم نریندر مودی کی 7 تصاویر کیوں لگائی گئیں؟ یونیورسٹی کے طلباء کا الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے ایسا کام کر رہی ہے۔ طلبہ نے اس گزٹ کو تعلیمی کی بجائے اشتہاری قرار دیا ہے۔

وہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے الزامات کی تردید کی ہے۔ یونیورسٹی کے پی آر او پروفیسر شفیع قدوائی کا کہنا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات پر جو خصوصی گزٹ جاری کیا گیا ہے اس میں پی ایم مودی کی تصاویر اس لئے ہیں کیونکہ انہوں نے صد سالہ تقریب میں آن لائن طریقہ سے شرکت کی تھی۔ گزٹ میں دیگر مہمانوں کی یادگار تصاویر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پروفیسر شفیع قدوائی نے کہا ہے کہ خصوصی گزٹ میں ملک اور دنیا کے دانشوروں کے مضامین کے ساتھ ان کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

 

اس معاملے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق نائب صدر حمزہ سفیان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ گزٹ انہیں یونیورسٹی کا کم اور سرکاری گزٹ زیادہ لگ رہا ہے۔ طلبہ یونین کے سابق نائب صدر حمزہ سفیان نے کہا کہ یونیورسٹی نے تعمیری کام میں تعاون کرنے والوں کو گزٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزٹ میں سرسید احمد خان سے زیادہ وزیراعظم کی تصویر نہیں لگنی چاہیے تھیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر یہ سب کر کے حکومت کے تلوے چاٹ رہے ہیں!
وہیں، طلبہ یونین کے سکریٹری رہ چکے حذیفہ نے کہا ہے کہ انہیں امید تھی کہ گزٹ میں یونیورسٹی کی کامیابیوں کے بارے میں بتایا جائے گا اور ان لوگوں کے بارے میں بھی بتایا جائے گا جنہوں نے اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا لیکن بہت ہی شرم کی بات ہے کہ یونیورسٹی کے صد سالہ جشن کے گزٹ کو بی جے پی کا ترجمان بنا دیا گیا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔