پولیس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پرفیسر کے خلاف مبینہ طور پر ہندو دیوتاؤں کی توہین اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔

یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں فورنزک سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر جیتیندر کمار پر الزام ہے کہ انھوں نے جنسی جرائم اور فورنزک سائنس سے متعلق اپنی کلاس میں لیکچر دیتے ہوئے بعض ہندو دیوی دیوتاؤں کا حوالہ دیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک پریزینٹیشن کے دوران کہا تھا کہ بعض ہندو دیوتاؤں نے مبینہ طورپر ریپ کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کی اس پریزینٹیشن کی پاور پوینٹس سلائڈز سوشل میڈیا پر آنے کے بعد یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم اور بی جے پی سے وابستہ ڈاکٹر نیشیت شرما نے ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔

ڈاکٹر شرما نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’میڈیکل کالج کے ایک پروفیسر نے ہندوؤں کے دیوتا بھگوان برہما، بھگوان وشنو، بھگوان اندردیو اور بعض دیگر دیوی دیوتاؤں کے بارے انتہائی نازیبا اور غیر مہذب مثالیں دیں۔ وہ ایسی باتیں ہیں کہ ہم اور آپ ان کے بارے میں چرچا بھی نہیں کر سکتے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا مطالبہ ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور ایسا طے ہو کہ اس پروفیسر کا ضمیر کانپ جائے۔ انھیں درس و تدریس سے بھی باہر کیا جائے۔‘
پولیس نے ڈاکٹر جیتیندر کے خلاف مذہبی جزبات کو مجروح کرنے کا مقدمہ درج کرنے کے بعد اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈاکٹر جیتیندر کو معطل کر دیا ہے اور انھیں چوبیس گھنٹے میں اپنی وضاحت پیش کرنے کا نوٹس دیا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ترجمان عمر پیرزادہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر جیتیندر کے خلاف لگائے گئے الزامات کی جانچ کے لیے دو ارکان کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔

اس دوران ڈاکٹر جیتیندر نے اس واقعے کے لیے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ انھوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو لکھے گئے ایک خط میں لکھا ہے کہ ’میں اپنی تھرڈ ایئر کی ایم بی بی ایس کی کلاس میں پانچ اپریل کو جنسی جرائم کے موضوع پر ریپ کے بارے میں دیوی دیوتاؤں سے متعلق اہانت آمیز حوالہ دینے کے لیے غیر مشروط معافی کا طلب گار ہوں۔ میرا مقصد کسی کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا۔ بلکہ صرف یہ اجاگر کرنا تھا کہ ریپ سماج کا ایک پرانا مسئلہ رہا ہے۔ میں اسے ایک غیرارادی غلطی مانتا ہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھ سے دوبارہ ایسی غلطی نہیں ہو گی۔‘