ممبئی ، 14 جنوری (یو این آئی) مہاراشٹر کے وزیر دھننجئے منڈے کے خلاف عصمت دری کے الزامات کے معاملے میں ایک عجیب و غریب موڑ اسوقت آگیا جب حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما نے جمعرات کے روز دعوی کیا کہ جس خاتون نے وزیر موصوف پر عصمت دری کے الزامات عائد کئے ہے وہ دراصل ایک چالباز خاتون ہے اور امیروں کو اپنے جال میں پھانستی ہے جسے دور جدید میں ” ‘ہنی ٹریپ” کا نام دیا جاتا ہے اور وہ حالیہ دور کا ایک فیشن بن چکا ہے .

سابق ممبر اسمبلی اور ممبئی بی جے پی کے نائب صدر کرشنا ہیگڈے نے کہا کہ ماضی میں اس خاتون نے انکو بھی اپنے جال میں پھنسانے کی کو شش کی تھی لیکن انکی عقل مندی کے سبب وہ محفوظ رہے.اس پورے معاملے کا راز افشاں کرتے ہوے انہوں نے کہا خاتون رینو شرما 2010 سے انہیں مسلسل فون کر رہی ہے کبھی انکے موبائل پر میسج کرکے انھیں جسمانی تعلقات قائم کرنے کے لئے مدعو کرتی ہے تو کبھی کچھ اور اظہار خیال کرتی ہے.ہیگڈے نےآج اس ضمن میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ،کہا کہ رینو انہیں مسلسل حیران اور ہراساں کرنے لگی یہاں تک کہ وہ اکثر وبیشتر انکا پیچھا بھی کرنے لگی.ہیگڈے نے۔مزید بتلایا کہ انہیں ذرائع سے پتہ چلا کہ ، وہ ایک مشکوک خاتون ہے جوبھولے بھالے لوگوں کو پیار ومحبت کی باتیں کرکے انھیں بلیک میل کرنے کا جال بچھاتی ہے ، لہذا انہوں نے اس سے ملنے سے مکمل طور پر گریز کیا.، ہیگڈے نے اس تعلق سے مقامی امبولی پولیس اسٹیشن میں خاتون (رینو شرما) کے خلاف ​​شکایت بھی درج کروائی ، اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے

معاملہ اچانک ہی ریاست کے سیاسی گلیاروں میں موضوع بحٹ بنا ہوا ہےاور حکمراں شیو سینا ‘نیشنلسٹ کانگریس پارٹی‘ کانگریس مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو بھی اس سے سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حالانکہ این سی پی کے صدر شرد پوار نے اپنی پارٹی کے وزیر کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو "سنگین نوعیت کا” قرار دیا ہے ، لیکن بعد میں اعلی رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ وہ منڈے کے خلاف کوئی قابل سزا اقدامات اٹھانے سے پہلے پولیس تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں گے۔