۔23سالہ کشمیری نوجوان کا کیس قومی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے

نئی دہلی : قومی تحقیقاتی ایجنسی نے 23سالہ شیر علی کا کیس اپنے ہاتھ میں لیا ہے ۔ شیرعلی پر الزام ہے کہ اس نے موبائیل فون کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی عسکریت پسندوں کی مدد کی تھی ۔ علی اس سال فبروری میں کویت سے منتقل ہوا ۔ بتایا جاتا ہے کہ شیر علی نے اپنے واٹس اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کی رہنمائی کی تھی اور اپنے موبائیل فون کے ذریعہ ان سے رابطہ رکھا تھا ۔ شیر علی نے تحقیقاتی ایجنسی کے عہدیداروں کو بتایا کہ اس نے جموں و کشمیر کے اضلاع راجوری اور پونچھ میں عسکریت پسندی کی احیاء کا منصوبہ بنایا تھا ۔ پاک مقبوضہ کشمیر میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں سے رابطہ بھی قائم کیا تھا ۔ شیر علی پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے کشمیر کے دو اضلاع کے نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر انہیں دہشت گردی کیلئے آمادہ کررہا تھا ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد سرگرمیوں اور منشیات کی منتقلی میں بھی ملوث تھا ۔ جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ شیر علی نہایت ہی سخت گیر اور عسکری سرگرمیوں کا حامی ہے ۔ اس نے جموں کشمیر کے قریب بہت بڑا دہشت گرد اور منشیات کا نیٹ ورک چلانا شروع کیا تھا ۔ اس نے اب تک بے شمار قوم دشمن سرگرمیاں انجام دی ہیں ۔ شیر علی اور اس کے خفیہ نیٹ ورک کی وجہ سے ہندوستان کی سلامتی ، مقتدر اعلیٰ اور یکجہتی کیلئے بہت بڑا خطرہ پیدا ہوا ہے ۔ کویت میں اپنے قیام کے دوران اس نے پاکستانی دہشت گرد کمانڈر سے رابطہ قائم کیا ، خاص کر تحریک المجاہدین اور اس کی شاخ جے کے غزنوی فورس سے اس کی دوستی ہے ۔تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ 24اور 25 نومبر 2020 کی درمیانی شب اس نے بال کوٹ کے علاقہ میں دو بیرونی دہشت گردوں کو دراندازی میں مدد کی تھی ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں