عرب پارلیمنٹ نے شان اقدسؐ کے خلاف بی جے پی کے ریمارکس پر مذمت کی ہے

قاہرہ۔ قاہرہ نژاد عرب پارلیمنٹ نے ہندوستان میں پیغمبر اسلامؐ کی شان اقدس میں برسراقتدار پارٹی کے دوسابق ترجمانوں کے ”غیرذمہ دارانہ“ کو مسترد کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے عرب پارلیمنٹ نے کہاکہ ”اس طرح کے بیانات رواداری اور بین المذاہب مکالمے کے اصولوں سے متصادم ہیں“ جو ”مذاہب کے درمیان تناؤ اور نفرت کی کیفیت کا باعث بنتے ہیں“۔

عرب لیگ کے قانون ساز ادارے نے بھی حیرت کا اظہار کیاکہ ”اس طرح کے بیانات سیاسی عہدیداروں کی جانب سے جاری کئے جارہے ہیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ مذاہب ا ور تبدیلیو ں کے درمیان اعتدال‘ روداری اور مکالمے کے اقدار کو پھیلانے کے لئے پر عزم ہیں‘ اور انتہا پسندانہ خیالات کامقابلہ کرتے ہیں جو بغاوت او رمذہبی منافرت کو ہوا دینے کاکام کرتے ہیں“۔

بیان میں مزیدکہاگیا ہے کہ عرب پارلیمنٹ نے ”اظہار خیال کی آزادی اور دوسروں کے عقائد کے احترام کے عظیم فرق کو سمجھنے کی ضرورت پر بھی زوردیا‘ اس بات پر زوردیا کہ آزادی رائے کے بہانے مذاہب اور ان کے مقدس علامتوں کی توہین کو قبول کرنا اور ظاہر کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے“۔

نوپور شرما جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ترجمان تھیں کو پارٹی کی قیادت نے برطرف کردیا ہے‘ او رپارٹی دہلی یونٹ نے میڈیا سربراہ نوین جندال کو پارٹی سے نکال دیاہے۔

بی جے پی نے کہا ہے کہ پارٹی کا نظریہ تمام مذہب کا احترام ہے۔

مذکورہ متنازعہ بیانا ت عالمی الجھن پیدا کرنے کا سبب بنے ہیں۔متعدد مسلم ممالک بشمول افغانستان‘ پاکستان‘ سعودی عربیہ‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت‘ بحرین‘ انڈونیشیاء اور ایران کے ساتھ ساتھ آرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن اور مسلم ورلڈ لیگ نے سرکاری طور پر اپنے احتجاجی بیانات دئے او رایک معافی کی مانگ کی ہے۔