حوثیوں کی توجہ امن کے بجائے جنگ پر مرکوز ہے : امریکہ

ریاض: یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کی سمت آنے والے ایک ڈرون طیارے کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے بیان کے مطابق سعودی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے بھیجا جانے والا ڈرون طیارہ آج جمعے کو علی الصبح مار گرایا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے ان کوششوں کو جاری رکھنے کا مقصد دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانا ہے۔واضح رہے کہ اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان بریگیڈیر جنرل ترکی المالکی نے چند روز قبل العربیہ سے بات کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ حوثی ملیشیا فرضی کامیابیوں کے من گھڑت قصے پھیلا رہی ہے۔ المالکی کے مطابق اس پروپیگنڈے کا مقصد اپنے جنگجوؤں کا مورال بلند کرنا اور عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ان جھوٹی کہانیوں کا مقصد زمینی حقائق کو چھپانا ہے جن کے مطابق حوثی ملیشیا کو مارب اور الجوف کے صوبوں میں بھاری جانی اور مادی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔قبل ازیں واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یمن کی حکومت وہ واحد قانونی حکومت ہے جس کو امریکہ تسلیم کرتا ہے۔آج جمعے کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی توجہ امن کوششوں سے زیادہ جنگ پر مرکوز ہے۔ اس دوران ملیشیا نے یمن کے متعدد علاقوں بالخصوص مارب میں حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یمن کے لیے امریکی ایلچی کی جانب سے دیے گئے بیان کے حوالے سے جو بعض میڈیا رپورٹیں گردش میں ہیں وہ غلط ہیں۔یمن کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹموتھی لینڈرکنگ نے جمعرات کے روز زور دے کر کہا تھا کہ یمن میں انسانی بحران کا علاج جامع فائر بندی ہے۔ وہ امریکی عرب تعلقات کی قومی کونسل کی جانب سے انٹرنیٹ کے ذریعے منعقد مباحثے میں گفتگو کر رہے تھے۔لینڈرکنگ کا کہنا تھا کہ مارب (یمن کے شمال مشرق میں) پر حوثیوں کے مسلسل حملے کسی بھی معاہدے یا سیاسی تصفیے کے مواقع پر اثر انداز ہوں گے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالے تا کہ ان حملوں کو روکا جا سکے۔یاد رہے کہ رواں سال فروری سے مارب میں حوثیوں کے حملے دیکھے جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں صوبے میں تقریبا دس لاکھ افراد کی نقل مکانی کا اندیشہ ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں