یہ دریافت اس لئے بھی کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ مٹی کی یہ مسجد اچھی طرح متعین رہائشی علاقے کے وسط میں واقع ہے۔

بغداد۔برٹش میوزیم کی ایک کھدوائی میں عراق کے الرفیفائی علاقے میں مٹی کی ایک مسجد دریافت ہوئی ہے کہ جو عراقی نیوز ایجنسی (ائی این اے) کی خبر کے بموجب 60ہجری یا پھر 679اے ڈی میں تعمیرکی گئی ہے۔

تازہ کھدوائی سے ہوئی دریافت کے بموجب مذکورہ 1342سال قدیم مسجد اٹھ میٹرس چوڑی او رپانچ میٹر لمبی ہے۔

مسجد کے وسط میں امام کے لئے ایک منبر بھی تعمیر کیاگیاہے‘ جس میں 25افراد بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں۔

عراق نیوز ایجنسی نے دہی قار میں کھدوائی اور تحقیقات کرنے والے محکمہ کے ڈائرکٹر علی شالغام کے حوالے سے کہا کہ ”اسلامی کے ابتدائی دور میں مساجد اہم عمارتوں میں شامل رہے ہیں“۔

مذکورہ برطانوی ٹیم نے مقامی لوگوں کی مد د سے اس مسجد کو دریافت کیاہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس کو کافی اہم دریافت کے طور پر دیکھا جارہا ہے کیونکہ اسلام کے ابتدائی کے پروان چڑھنے کے ابتدائی دور کی یہ مسجد ہے۔

یہ دریافت اس لئے بھی کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ مٹی کی یہ مسجد اچھی طرح متعین رہائشی علاقے کے وسط میں واقع ہے۔

حکومت کی نگرانی میں چلائی جانے والی عراقی نیوز ایجنسی کو شالغام نے بتایا کہ ”اسلام کے ابتدائی دور کو ظاہر کرنے پر مشتمل بہت کم جانکاری ہمارے پاس ائے ہے۔

دریافت مٹی ہمیں موقع کے قریب سے منظرعام پر ملی ہے‘ کیونکہ پانی‘ ہوا‘ بارش کی وجہہ سے اس عمارت کے چندہی باقیات رہ گئے ہیں“۔