غازی  آباد:(ایجنسیز) پولیس نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے دو مزید افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں کلّو اور عادل شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق مبینہ ھور پر ’عبدالصمد تعویذ دینے کا کام کرتے تھے اور ان کی تعویذ الٹی پڑ گئی جس کی وجہ سے انھیں پیٹا گیا‘۔ پولیس کے مطابق اس میں شامل دوسرے لڑکوں میں مشاہد، عارف اور پولی شامل ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ دیگر ملزمان کی شناخت ہوچکی ہے اور جلد ہی انھیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘عبد الصمد بلند شہر سے لونی سرحد پر آئے تھے جہاں سے وہ ایک اور شخص کے ساتھ مرکزی ملزم پرویش گوجر کے گھر گئے۔’

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گوجر کو ان کے گھر پر کلّو، پولی، عارف، عادل اور مشاہد ملے اور ان سب نے اس بوڑھے شخص کے ساتھ تشدد کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ‘ان کے بقول عبد الصمد تعویز بنانے کا کام کرتے ہیں، اس کے دیے ہوئے تعویز سے ان کے خاندان پر الٹا اثر ہوا۔ اس وجہ سے انھوں نے یہ فعل انجام دیا’۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان عبد الصمد کو پہلے سے جانتے تھے کیوں کہ انھوں نے ‘گاؤں میں کئی لوگوں کو تعویز دیے تھے۔’واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور اترپردیش پولیس تحقیات کے معاملے میں شدید تنقید کا شکار رہی ہے۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ اتر پردیش کے بلند شہر کے ایک قصاب عقیل قریشی کی موت کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے بارے میں اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انھیں پولیس نے مارا ہے جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ ان کے جانے کے بعد اپنے گھر کی چھت سے کود کر ہلاک ہوئے۔یہ واقعہ بھی سوشل میڈیا پر شدید بحث و تنقید کا باعث بنا تھا۔