عبدالاحدسازکاانتقال‘جدید شاعری کے ایک عہد کااختتام

اتوار 22مارچ 2020کی شب ممبئی جناب عرفان جعفری اور ڈاکٹرمحمدکلیم ضیاءنے سیل فون پراطلاع دی کہ ہم سب کے پسندیدہ شاعر اورر دوست عبدالاحد ساز 22مارچ کی شام انتقال کرگئے ۔وہ گزشتہ چند برسوں سے علیل تھے زیر علاج تھے اسکے باوجود محفلوں میں جایاکرتے تھے ۔عبدالاحد ساز 16اکتوبر 1950ءکو ممبئی میں ایک میمن خاندان میں پیدا ہوئے تھے ۔بچپن سے شاعری کاذوق تھا۔اردو ادب کے جدید رجحان سے وہ متاثرتھے ان کے دو شعری مجموعوں کی ہند وپاک کے ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی تھی۔ خاموشی بول اُٹھیں (1990)اورسرگوشیاں زمانے کی(2003) ءمیںشائع ہوئے تھے۔اور ادبی حلقوں میں کافی پسند کئے گئے تھے ۔ممبئی کے علمی ودابی حلقوں میں انکا ممتاز مقام تھا ۔وہ بڑے خاموش مزاج ‘سنجیدہ دانشور تھے ۔ مہاراشٹراسٹیٹ اردو ساہتیہ ادکادیمی نے انکی ادبی خدمات پر ایوارڈس سے نوازاتھا ۔اسی طرح مغربی بنگال اردو اکیڈیمی نے بھی ان کی شعروادب کی خدمات پر انھیں انعام و اکرام سے سرفراز کیاتھا ۔
عبدالاحد ساز کے پسماندگان میں اہلیہ اور تین بیٹیاں ہیں ۔ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ان کے مرحوم سے دیرینہ مراسم تھے اوران کی دعوت پرو ہ ناندیڑ کے کُل ہند مشاعرے میںشریک ہوئے تھے ۔اس مشاعرہ کی نظامت ڈاکٹرقاسم امام نے کی تھی۔ ساز© نے مشاعرہ میں جاوید ناصر کی رحلت پردرد انگیز مرثیہ سنایا تھا۔دوسرے دن وہ روزنامہ ”ورق تازہ“ ناندیڑ کے دفتر پر تشریف لائیے تھے ۔مدیراعلی محمدتقی نے انکا پُرتپاک استقبال کیاتھا ۔جناب محمدتقی نے دلی رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ عبدالاحدساز اردوکے منفرد جدید لب و لہجہ کے شاعر تھے اسکے باوجود کے وہ جدید رجحان سے وابستہ تھے لیکن ان کے شعروں میں ایسی علامات نہیں پائی جاتی ہیں جنہیں قارئین سمجھنے سے قاصر رہیں۔مجھے انکے ذیل کے اشعاربے حدپسند ہے ۔
اشعار
آئی ہوا نہ راس جو سایوں کے شہر کی
ہم ذات کی قدیم گھُپاوں میں کھو گئے

یہ بھی پڑھیں:  مہاراشٹرمیں دہشت گردوں کے حملوں کا خطرہ

دوست احباب سے لینے نہ سہارا جانا
دل جوگھبراے سمندر کے کنارے جانا

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

یادوںکے نقش گھُل گئے تیزابِ وقت میں
چہروں کے نام دل کی خلاﺅں میں کھو گئے

میںترے حُسن کورعنائی معنی دے دوں
تُو کسی شب میرے اندازِ بیاں میں آنا

مِرے مہ وسال کی کہانی کی دوسری قسط اس طرح ہے
جنوں نے رُسوائیاںلکھی تھیں‘ خردِ نے تنہائیاں لکھی ہیں

کِھلے ہیں پھول کی صورت ترے وصال کے دن
تِرے جمال کی راتیں ترے خیال کے دن
روزمرہ استعمال ہونے والے عام فہم الفاظ میں اپنے خیالات و احساسات و جذبات کااظہار احدکی خصوصیت تھی ۔خدا انکی مغفرت کرے اور انھیں اپنے قرب و جوار میںجگہ دے ۔ممبئی سے ڈاکٹر محمد کلیم ضیاءنے اپنے تعزیتی بیان میں عبدالاحدسا ز کے انتقال پُر ملال دلی رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک غیر متنازعہ شخص تھے ہردلعزیزانسان تھے انھیں کسی سے بھی کوئی اختلاف نہ تھا ۔انھوں نے میرے شعری مجموعہ”پس آئینہ “ پر بڑا جامع مضمون لکھا تھا جو اس مجموعہ میںشامل ہے ۔اللہ رب العز ت سے دعا ہے کہ وہ انکی مغفرت کرے اور انکے پسماندگان کو صبر وتحمل عطاءکرے ۔
(عبدالاحدساز کی رحلت پر)
تعزیتی نظم
وہ شاعر شاعر معتبر کلام
خوش مزاج و خوش خرام
دھیمہ لہجہ پر مغز اشعار
استعارے و تشبیہات کا التزام
چیدہ لفظوں میں اک کائنات
لفظ کا مصرعوں میں انضمام
نظم اپنے ہی معنی لڑیاں ہوں
ہر اک حرف کا خصوصی اہتمام
وہ داغ دے گیا آج عالم کو
عبدالاحد ساز تھا جس کا نام
مرزا انور بیگ‘ممبئی

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me