عآپ کی شاندار جیت کا کانگرس اور اقلیتوں کے لئے کیا معنی ؟

0 12

دہلی اسمبلی انتخابات کے نتیجے آ گئے ہیں اور نتیجے ویسے ہی آئے ہیں جیسا ایگزٹ پول کے رجحان دکھا رہے تھے ۔ عام آدمی پارٹی کی شاندار جیت کے ویسے تو کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں لیکن اکثریت کا یہ ماننا ہے کہ یہ بی جے پی کی قرقہ وارانہ منافرت کی سیاست اور امت شاہ کے تکبر کی شکست ہے ۔کچھ لوگ اس کو کیجریوال حکومت کے کاموں کی جیت قرارد ے رہے ہیں تو کچھ اس کو کانگریس کا انتخابی میدان میں نہ ہونا وجہ بتا رہے ہیں ۔

انتخابات سے چند ماہ پہلے دہلی کے 28 لاکھ بجلی صارفین کا صفر بل آنے اور پانی کے تمام بل معاف کرنے کی وجہ سے عام آدمی پارٹی نے انتخابات کے ابتدا میں ہی بڑھت بنا لی تھی لیکن امت شاہ نے میدان میں آکر اپنی پسندیدہ پچ پر جو بیٹنگ شروع کی تو عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان میں تھوڑی بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہوئی ۔ بی جے پی کو امت شاہ کی اس بیٹنگ کا فائدہ بھی ہوا اور اس نے اپنے ووٹنگ فیصد میں غیر متوقع اضافہ کیا ۔ بی جے پی نے جہاں پورے انتخابات کو شاہین باغ پر لڑ کر انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دیا وہیں کانگریس انتخابی تشہیر کے دوران خبروں سے پوری طرح غائب نظر آئی۔ عام آدمی پارٹی کے پاس جہاں عوام کو اپنی کارکردگی بتانے کے لئے کئی چیزیں تھیں وہیں کانگریس کی کوشش تھی کہ وہ عوام کو مجبور کرے کہ وہ مرحوم شیلا دکشت کے کاموں کا کیجریوال حکومت کے کاموں سے موازنہ کرے۔لیکن نتائج نے صاف کر دیا کے عوام کو کون اور کس کے مدے پسند آئے۔

تمام پارٹیوں کی ہر طرح کی کوششوں کے باوجود انتخابات میں رائے دہندگان نے ووٹ ڈالتے وقت کچھ ہی چیزوں کو ذہن میں رکھا جن میں کچھ کے ذہن میں تھا کہ ’اپنا ووٹ کیوں ضائع کیا جائے ‘ کچھ نے قوم پرستی اور ایک فرقہ کے خلاف ووٹ دیا ، کچھ نے مفت بنیاد سہولیات کے حق میں ووٹ دیا اور کچھ نے ایک شخص کے نام پر ووٹ دیا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں عوام کے ایک طبقہ کے ذہن میں ووٹ ڈالتے وقت یہ تھا کہ کون سی پارٹی بی جے پی کو ہرا سکتی ہے تو دوسرے کے ذہن میں یہ رہا کہ آزاد خیال اور اقلیتوں کو کون سی پارٹی سبق سکھا سکتی ہے اور اس سوچ میں پارٹی اور اور امیدوار کی صلاحیتوں پر کسی نے غور ہی نہیں کیا یعنی دہلی بھی ملک کی طرح تقسیم نظر آئی ۔ آزاد خیال اور اقلیتی طبقہ اس جیت پر جشن بھی منا رہے ہیں اور منانا بھی چاہئے کیونکہ یہ جیت ہے ہی ایسی لیکن اس جیت میں جو پیغام چھپے ہیں وہ پریشان کرنے والے ہیں اور خاص طور سے ملک کی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لئے ۔

جمہوریت میں حزب اختلاف کے کمزور ہونے اور بر سر اقتدار جماعت کا ضرورت سے زیادہ مضبوط ہونے کا مطلب شائد ہمیں اب سمجھ لینا چاہئے اور کوئی سمجھے یا نہ سمجھے لیکن اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو بہت اچھی طرح سمجھنا چاہئے کیونکہ انہوں نے مرکز میں مودی کی قیادت والی ضرورت سے زیادہ مضبوط حکومت اور بے انتہا کمزور حزب اختلاف کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ مستقل دیکھ رہے ہیں ۔ مرکز میں مضبوط حکومت کی وجہ ہی ہے کہ ان کی خواتین گزشتہ دو ماہ سے شاہین باغ سمیت ملک کے کئی حصوں میں سڑکوں پر بیٹھی ہوئی ہیں اور مضبوط حکومت ان سےبات کرنے کے بجائے انہیں اوران کے احتجاج کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔

انتخابی مصلحت کے پیش نظر عام آدمی پارٹی نے انتخابی تشہیر کے دوران خود کو اقلیتوں کے مسائل سے نہ صرف دور رکھا بلکہ اقلیتوں کے اکثریتی علاقہ میں اس پارٹی کے اسٹار کیمپینر خود کیجریوال گئے بھی نہیں تاکہ اکثریتی طبقہ کے لوگ ناراض نہ ہو جائیں ۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ شاہین باغ کا اپنی انتخابی تشہیر میں بالکل ذکر نہ کریں ۔ اس انتخابی حکت عملی کا ان کو زبردست فائدہ بھی ہوا ۔ کانگریس نے اس کے برعکس خود کو نہ صرف اقلیتوں کے مسائل کے ساتھ کھڑا دکھایا بلکہ شاہین باغ کی مظاہرہ میں ان کے رہنما پیش پیش رہے اور یہ انہوں نے اس وقت کیا جب پوری دنیا میں قوم پرستی کی لہر چل رہی ہے ۔ کانگریس کی اس حکمت عملی کو دہلی کے اکثریتی طبقہ نے مسترد کر دیا یعنی اقلیتوں کے مسائل اور سیکولر اقدار کے لئے کھڑے ہونے کی ان کی انتخابی حکمت عملی غلط ثابت ہوئی ۔

کانگریس کو اس غلط حکمت عملی کا آنے والے دنوں میں نقصان بھگتنا پڑے گا اور بہت ممکن ہے کہ بی جے پی کا ہندوستان کو ’کانگریس سے پاک‘ ہندوستان بنانے کے خواب میں یہ انتخابی نتائج اہم کردار ادا کریں ۔ اس پر کانگریس کو غور کرنا ہوگا ۔دوسری مرتبہ شاندار جیت حاصل کر نے کے بعد کیجریوال اب دہلی کے نہیں بلکہ ملک کے بڑے رہنما بن گئے ہیں اور اب کئی ریاستی پارٹیاں جو کانگریس اور بی جے پی سے خوفزدہ رہتی تھیں ان کے لئے کیجریوال ایک نئےقومی متبادل رہنما اور عام آدمی پارٹی نئی قومی پارٹی کی شکل میں سامنے آ سکتی ہے ۔ آنے واے دن کانگریس، ملک کی اقلیت اور ملک کے پسماندہ طبقات کے لئے اچھے نظر نہیں آتے کیونکہ یہ سارے وہ فیکٹر ہیں جو بی جے پی کو مزید مضبوط ہونے سے نہیں روک سکتے ۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو