• 425
    Shares

عالیہ بھٹ اس اشتہار میں دلہن کے کردار میں شادی کے منڈپ میں بیٹھی ہیں اور رسم و رواج کی زنجیروں میں پھنسی لڑکی کے ذہن میں آنے والے سوالات کو اٹھا رہی ہیں

انڈیا میں آجکل ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دو اشتہار چھائے ہوئے ہیں، ان میں سے ایک کپڑوں کے برانڈ ‘مانیہ ور موہو’ کا اشتہار ہے جس میں اداکارہ عالیہ بھٹ دلہن کے روپ میں نظر آرہی ہیں۔

دوسرا اشتہار کیڈبری چاکلیٹس کا ہے جس میں چنئی سے تعلق رکھنے والی تیراک اور اداکارہ کاویہ رامچندرن ایک کرکٹر کے کردار میں ہیں۔

ایک اشتہار انڈین معاشرے میں رائج روایات اور رسم و رواج پر سوال اٹھاتا ہے تو دوسرا ایسا لگتا ہے کہ صنف کے حوالے سے دقیانوسی تصورات یا قدامت پسند نظریے کو چیلنج کرتا نظر آتا ہے۔

مانیہ ور موہو کپڑوں کا ایک برانڈ ہے۔ عالیہ بھٹ اس اشتہار میں دلہن کے کردار میں شادی کے منڈپ میں بیٹھی ہیں اور رسم و رواج کی زنجیروں میں پھنسی لڑکی کے ذہن میں آنے والے سوالات کو اٹھا رہی ہیں۔

’بیٹی پرایا دھن کیوں ہے، وہ کیوں کسی اور کی امانت ہوتی ہے؟ اسی کا کنیا دان کیوں ہوتا ہے؟‘

اس اشتہار کے آخر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکے کے والدین اپنے بیٹے کا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں اور عالیہ کہتی ہیں ‘نیا آئیڈیا کنیا مان’ یعنی ’بیٹی کی قدر’۔

سوشل میڈیا پر اس اشتہار کی جہاں تعریف ہو رہی ہے وہیں اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

ایک صارف انوپما راٹھی لکھتی ہیں’ کہ یہ ترقی پسند پیغام مساوات کو فروغ دیتا ہے۔ صرف بیٹیاں ہی کیوں دی جاتی ہیں؟ وہی روایات لیکن نئے نظریے کے ساتھ’۔

لڑکی شناخت کا سوال
‘مانیہ ور موہو’ کے اشتہار کو کافی حد تک ایک تحریک سمجھنے والی ڈاکٹر ایشیتا اگروال کہتی ہیں کہ ’یہ اشتہار انڈین معاشرے میں رچے بسے ایک خیال یا عقیدے کو چیلنج کرتا ہے کہ کنیا دان کا تصور کیا ہے۔ کیا لڑکی آپ کی جاگیر ہے یا آپ اس کے مالک ہیں کہ اس کا عطیہ دے سکیں اور دان یا عطیے کا مطلب ہے کہ ایک چیز کو ایک مالک کا دوسرے مالک کو دینا، تو آپ اس رواج کی پیروی کرتے ہوئے لڑکی کی شناخت کو ہی کم کر رہے ہیں۔‘

بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنی شادی میں اپنے والد کو ‘کنیا دان’ کی رسم ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ڈاکٹر ایشیتا مارکیٹنگ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کنزیومر انسائیٹ کنسلٹنٹ بھی ہیں۔ ان کے مطابق ‘کوئی بھی چیز ٹرول تب ہوتی ہے جب وہ لوگوں کے دل پر لگتی ہے۔ جب وہ جرم یا احساسِ جرم محسوس کرتے ہیں تو اس کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں’۔

وہ کہتی ہیں ‘جب انھوں نے لِنکڈ اِن پر ان دونوں اشتہارات پر لکھا تو بہت سے پڑھے لکھے لوگوں نے مانیہ ور موہو کے اشتہار کو خواتین کی حفاظت سے جوڑا اور کہا کہ ایک باپ اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے دوسرے کو دے رہا ہے۔ لیکن یہاں حفاظت کا کیا مطلب ہے؟ خواتین خود بھی مالی طور پر با اختیار ہو رہی ہیں اور معاشرے میں بھی اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔ خواتین آج کی تاریخ میں اپنے بچوں اور خاندان کی ذمہ داری اٹھا رہی ہیں، جبکہ آپ اس کی جنس کو کمتر دکھا رہے ہیں۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔