عالم اسلام میں وہ سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں گی جس کی توقع نہیں کی جا سکتی

996

رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ اپنے آب و تاب پر ہے۔ مسجدیں روزہ داروں سے بھری ہوئی ہیں، تراویح کی صفوں میں جگہ مشکل سے میسر ہے اور اب تو عید کی کچھ کچھ خریداری بھی شروع ہو چکی ہے۔ مسلم محلوں میں راتیں روشن اور دن سونے ہیں۔ ساتھ ہی خیرات و زکوٰۃ کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ جلد ہی چاند رات آ جائے گی اور بس پھر تو عید اور اس کے ہفتے بعد تک عید کا خمار۔ خیر یہ تو ہر سال ہی ہوتا ہے، لیکن یہ رمضان المبارک ایک اعتبار سے تاریخی ماہ رمضان ہے۔ اس رمضان میں سعودی عرب اور ایران میں تعلقات بہتر ہو گئے۔ یہ عالم اسلام کی اس صدی کی سب سے اہم اور تاریخی خبر ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ عالم اسلام کو یہ بھی سمجھ میں آنے لگا کہ امریکہ اس کا حلیف نہیں بلکہ حریف ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ امریکہ سے دوری اختیار کی جائے اور چین جیسے نئے ابھرتے عالمی پاور کے ساتھ رشتے بڑھائے جائیں۔ سعودی عرب نے اس سلسلے میں جو شروعات کی ہے وہ سارے عالم اسلام کو متاثر کرے گی۔ صرف متاثر ہی نہیں بلکہ جلد ہی سارے عالم اسلام میں وہ سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں گی جس کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

دراصل اکیسویں صدی عالم اسلام کے لیے وہ دور ہے جو زیادہ تر ایشیائی اور افریقی ممالک کے لیے بیسویں صدی تھی۔ یعنی اب عالم اسلام کے زیادہ تر ممالک سہی معنوں میں آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر کارگر ہوں گے۔ سعودی عرب اور زیادہ تر پٹرول کی دولت سے مالا مال ممالک آزاد تو تھے لیکن ان کی خارجہ پالیسی اور سیکورٹی معاملات امریکہ کے ہاتھوں میں تھی۔ پرنس محمد بن سلمان نے چین اور ایران سے رشتے بڑھا کر اس امریکی غلامی سے نجات کا راستہ کھول دیا ہے۔

اب تمام عالم اسلام چین کی مدد سے وہ ترقی کر سکتا ہے جس سے ابھی تک وہ محروم تھا۔ آپ سعودی عرب یا دبئی جیسے ملک جائیں تو عالی شان عمارتیں، بہترین سے بہترین کاریں اور دنیا کے مہنگے سے مہنگے مال تو نظر آئیں گے، لیکن یہ سب مغربی دنیا کی بنائی ہوئی ترقی ہے۔ اس ترقی میں عربوں کا صرف اتنا حصہ ہے کہ پیسہ ان کا ہے۔ آج ترقی کے معنی محض بلند و بالا عمارات نہیں بلکہ ترقی تو اس کو سمجھا جاتا ہے کہ کس ملک میں خود اپنے کام کرنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ ترقی ٹھیکے دے کر نہیں خریدی جا سکتی ہے۔ ترقی تو دماغ اور صلاحیت کا نام ہے۔ یہ صدی اور آنے والا زمانہ محض تعلیم ہی نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ اسکل یعنی صلاحیت کا دور ہے۔

کوئی بھی قوم باہری ممالک کو ٹھیکہ دے کر ترقی خرید نہیں سکتا ہے۔ ترقی کے لیے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑتا ہے اور اس کے لیے صلاحیت درکار ہے۔ امریکہ ٹھیکے پر آپ کا ملک تو چمکا سکتا ہے لیکن اس کی ٹھیکے داری برقرار رہے اس کے لیے وہ آپ کو باصلاحیت کبھی نہیں ہونے دیتا۔ اس کے برخلاف چین آپ کا کام بھی کرتا ہے اور آپ کو باصلاحیت بھی بناتا ہے تاکہ آپ اپنے پیروں پر خود کھڑے ہو سکیں۔ اس کا اندازہ آپ ایران اور سعودی عرب سے لگا سکتے ہیں۔ سنہ 1979 میں انقلاب کے بعد سے ایران کے رشتے امریکہ سے بہت خراب رہے۔ لیکن آج ایران کی ترقی کا یہ حال ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بہترین شئے بنا رہا ہے۔ جبکہ سعودی عرب خود اپنے طور پر ایک سوئی نہیں بنا سکتا ہے۔ ایران نے یہ صلاحیت چین اور روس سے حاصل کی، جبکہ سعودی عرب کو امریکہ نے کبھی باصلاحیت ہونے ہی نہیں دیا۔

اب آپ تصور کریں کہ سعودی عرب کے چین کے ساتھ بڑھتے رشتے سعودی عرب کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم اسلام کے لیے کتنا اہم اور تاریخی موڑ ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا عرب نوجوان اب خود کو جدیدیت یعنی دنیا کی ترقی کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔ کچھ نہیں تو قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ کرا کر اپنی اس خواہش کا اظہار کیا۔ بات یہ ہے کہ کمپیوٹر اور آئی ٹی نے دنیا میں اس قدر کھلاپن پیدا کر دیا ہے کہ اب ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی کے دل میں پرواز کی تمنا جاگ اٹھی ہے۔ اس تیز رفتار بدلتی دنیا میں بھلا عرب یا دیگر مسلم ممالک کے نوجوان آخر دوسرے ممالک کے نوجوانوں کی طرح زندگی بسر کرنے کی خواہش ہی نہیں عمل بھی کیوں نہیں کر سکتے ہیں۔

یہی وہ تبدیلی ہے جس کی شروعات پرنس محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں اپنی نئی انٹرٹینمنٹ پالیسی سے کی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ تمام عالم اسلام میں جدید تعلیم کے بہترین سے بہترین مراکز کھولے جائیں۔ آج کے دور میں صرف اچھے اسکول اور اچھی یونیورسٹیوں سے کام نہیں چلتا ہے۔ پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ یہ صدی اسکل یعنی صلاحیتوں کی صدی ہے۔ اس کے لیے آئی ٹی میں مہارت حاصل ہونی چاہیے اور طرح طرح کے اسکل کے نئے ادارے قائم ہونے چاہئیں تاکہ ہر ملک ٹھیکے پر کام لینے کے بجائے خود اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کے زور پر اپنا کام خود کرے، جیسے کہ ایران کر رہا ہے۔

سعودی عرب نے یہ راستہ دکھا دیا ہے۔ جلد ہی تمام عرب ممالک کے رشتے چین اور ایران کے ساتھ بہتر سے بہتر ہونے چاہئیں۔ کیونکہ چین ایک سپر پاور ہے اور دنیا بھر کی صلاحیتوں سے لیس ہے۔ ساتھ ہی ایران بہت سی جدید فیلڈ میں کافی باصلاحیت ہو چکا ہے۔ سعودی اور ایران کی آپسی تعلقات میں بہتری اب عالم اسلام کے لیے ایک ماڈل بن چکا ہے۔ اس کے ذریعہ پورے عالم اسلام میں ترقی اور خود مختاری کے نئے راستے کھلتے جائیں گے جو عالم اسلام میں جدید انقلاب کے راستے ہموار کرے گا۔ میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی چین اور ہندوستان کے بیسویں صدی کی طرح خود اپنی خاموش ترقی کی صدی ثابت ہوگی، لیکن 22ویں صدی میں عالم اسلام بھی دنیا کے اہم مراکز میں سے ایک ہوگا۔ رمضان کے مبارک مہینے میں عالم اسلام نے یہ کروٹ بدلی ہے۔ جلد ہی یہ موڑ عالم اسلام میں ایک جدید انقلاب کو جنم دے گا جو دنیا کو حیرت زدہ کر دے گا۔(ظفر آغا)