عرفی صدیقہ زوجہ ڈاکٹر ذاکر انعامدار
ناظمہ حلقہ خواتین ،جماعت اسلامی ہند اردھاپور
نحمد و نصلی علی رسولہ الکریم الی یومِ الدین اما بعد۔
ہم سب جانتے ہیں کہ 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین "The Woman’s Day” بین الاقوامی سطح پر عالمی طور پر منایا جاتا ہے۔اس کا مقصد خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے اقدامات کی ترغیب دینا ہے۔یومِ خواتین کے پس منظر کو دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں خواتین نے اپنی تنخواہ کے مسائل کے متعلق احتجاج کیا، لیکن اس احتجاج کو گھڑ سوار دستوں کے ذریعے کچل دیا گیا، پھر 1909 میں امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی نے خواتین کے مسائل حل کرنے کے لیے "وومین نیشنل کمیشن” بنایا اور اس طرح بڑی جدوجہد اور کوششوں کے بعد فروری کی آخری تاریخ کو خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جانے لگا۔

عالمی یوم خواتین سب سے پہلے 28 فروری کو 1909 میں امریکہ میں منایا گیا اور پہلی عالمی خواتین کانفرنس 1910 میں کوپن ہیگن میں منعقد کی گئی۔ 8 مارچ 1913 کو یورپ بھر میں خواتین نے ریلیاں نکالی اور دیگر پروگرام منعقد کیے۔اس طرح برسوں سے 8 مارچ کو عالمی سطح پر "یومِ خواتین” منایا جاتا ہے۔
اسی ضمن میں جدید تحرک نسواں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہر سال عورت پر تشدد، جسمانی و نفسیاتی استحصال، غضب شدہ حقوق اور صنفی عصبیت کا نگر نگر واویلا کرتی ہے۔عظیم الشان اور مہنگے ترین ہوٹلوں میں پر تکلف سیمینارز کا انعقاد کرتے ہیں۔اخبارات میں رنگین ضمیموں کی اشاعت کرتے ہیں، کانفرنسیں میں بے نتیجہ مباحثے اور پھر سے ہر سال نئی قراردادوں کے لیے سفارشات کا پیش کیے جانا اس عالمی دن کی لا حاصل روایات اور رسومات بن گءہیں۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر کی خواتین متحد ہو کر خود پر لگائے گئے صنفِ نازک کا ٹیگ اتار کر اپنے ضبط شدہ حقوق کی بحالی کے لئے جرات مندانہ آواز بلند کرنے پر مجبور ہیں۔ہندوستان اور اس جیسے سماجی بدحالی سے دوچار ممالک میں ہر زمانے میں خواتین چار دیواری کے اندر اور باہر یکساں استحصال کا شکار ہیں۔بات معمولات زندگی میں صنفی عدم مساوات سے کہیں بڑھ کر اب جسمانی و جنسی تشدد، اغوا، آبروریزی، خود کشی پر اکسانا، بے راہ روی و بے غیرتی کے الزام میں قتل اور ایسے کتنے مصائب و مشکلات سے آگے جا پہنچی ہے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا میڈیا، تعلیمی ادارے، بلدیاتی سطح سے صوبائی اور صوبائی سے قومی سطح تک تمام اصحابِ اختیار و ذمہ دارافراد ایسے سماج کی موجودگی کو یقینی بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں جہاں مشفق باپ ہیرو ہو، بھائی با کردار ہی نہیں نرم خو اور حلیم الطبع بھی ہو، اور جہاں بیٹا ماں کی وہ عزت و تکریم دیکھے کہ کبھی اپنی بیوی کی عزت نفس کو نہ روندے۔ایسے معاشرے کی بنیاد کے لیے راہیں استوار کی جائیں جہاں مردہیبت ناک فرعون نہیں بلکہ ذمہ دار زیرک و مشفق سرپرست ہوں۔ ہر سطح پر اخلاقیات بحیثیت حکمت عملی مضمون رائج کیا جائے آئے۔مخلوط تعلیمی نظام بھی مرد و خواتین میں لحاظ و توازن پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے بشرط یہ کہ اساتذہ خوش اخلاق و مہربان ہونے کے ساتھ ساتھ نگران بھی ہوں با اختیار ہو ں مگر ذمہ دار ہوں۔تدریسی ادارے، منبر و مساجد، ذرائع ابلاغ، گھرکا سربراہ ہو یا گاو ¿ں کی پنچائیت حتیٰ کہ خود عورت۔اس تربیت میں ہر ایک کو اپنے کردار کی اہمیت کا ادراک وشعور اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔عالمی یوم خواتین کا مقصد صرف خواتین کو ان کے حقوق کا شعور نہیں بلکہ مردوں کو ان کے فرائض و اختیارات بابت شعور کی آگہی کا پرچار کرنا ہے۔

اسی ضمن میں تحریک اسلامی ہند حلقہ خواتین کی جانب سے ہر سال مختلف عناوین کے تحت "یومِ خواتین” منایا جاتا ہے۔اس سال بھی 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین بعنوان "قوموں کی عظمت تم سے ہے” منایا جائے گا۔تاکہ اس موقع پر دنیا کو بتایئں کہ اسلام نے عورت کو وقار، افتخار کی دولت سے مالا مال کیا اور اس کی عزت افزائی کی اور احترام محبت اور خلوص کو متعین ٹھیرایا، اسے ستر و حجاب، حیا، شرافت اور انسانیت کا لبادہ اوڑھا کرنسوانیت کے زیورات سے آراستہ و پیراستہ کر کے معاشرے میں عزت غیرت اور تقدس کا محور بنا دیا۔ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ ایک عورت کس طرح اپنے گھر، معاشرے، اور ملک و ملت کے لیے نسوانی کردار کھوئے بغیر نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔اور گھر معاشرے اورملک و ملت کی عظمت کا نشان بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام خواتین میں ان کی اہمیت و مقام کا سچا شعور عطا فرمائے اور انھیں حدود اسلام میں رہ کر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین