غالب کی مثنوی چراغِ دیر کا انگریزی ترجمہ چوری ہے
نئی دہلی:(راست)ادبی چوریاں توہر ملک اورہرزبان میں زمانہ قدیم سے ہوتی آرہی ہیں ۔ لیکن حال ہی میں مرزا غالب کی مثنوی چراغ دیر کے تعلق سے عالمی سطح پر کی گئی ایک چوری کامعاملہ منظرعام پرآیا ہے ۔ یہ معاملہ نیشنل لیول پرچھپی ہوئی ایک کتاب کوہندی سے انگریزی میںانٹرنیشنل سطح پرشائع کرنے کا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اردو اور ہندی کے مشہور وممتاز شاعروادیب پروفیسر صادق( نئی دہلی) نے مرزا غالب کی اس مشہور فارسی مثنوی کامنظوم ترجمہ ہندی زبان میں کیاتھا ۔ اس ترجمے کو غالب اور بنارس کی وجہ سے ملک گیر مقبولیت ہوئی ۔ ہندی اورانگریزی کے کئی اخبارو جرائد میں اس کتاب پرتبصرے شائع ہوئے اور ہرطرف چراغ دیر کی دھوم مچ گئی۔

حال ہی میںغالب کی اس شاہکار مثنوی کاایک ترجمہ انگریزی میں بھی شائع ہوا ہے جو پنگوین نامی شہرہ آفاق اشاعت کدے نے بڑے اہتمام کے ساتھ کتابی شکل میںشائع کیا ہے۔ جسے عالمی سطح پر مقبولیت حاصل ہورہی ہے لیکن اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ انگریزی مترجم نے غالب کی مثنوی کی بجائے اس کے ہندی ترجمے کوسطر بہ سطر اورلفظ بہ لفظ ترجمہ کردیا ہے ۔پوری کتاب میں اس بات کاکہیں بھی ذکر نہیں کیاگیا ہے کہ یہ ترجمہ کس متین کو سامنے رکھ کر کیاگیا ہے ۔ غالب کی مثنوی کے فارسی متن کو ا س کے ہندی ترجمے کے متن کو؟ ۔ ہندی ترجمے کے متن میںمترجم صادق نے شعری ضرورتوں کے پیش نظر اپنی طرف سے کچھ اضافے کردئےے تھے جو انگریزی مترجم نے مرزا غالب کے سمجھ کر من وعن ترجمہ کر ڈالے ہیں ۔ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ مترجم نے اپنی کتاب میں مذکورہ ہندی ترجمے کا کہیں بھی کوئی ذکر یا حوالہ نہیں دیا ہے۔

یہ دور حاضر کی سب سے بڑی ادبی چوری ہے۔اس ضمن میں پنگوین بُکس کے ذمہ داروں کو بھی مطلع کردیاگیاہے اب دیکھنایہ ہے کہ وہ اس سلسلے میںکیاعملی قدم اٹھاتے ہیں۔